.

ایرانی کارگو طیارے میں منجمد گوشت کے ساتھ 15 سینئر فوجی افسران کا کیا کام ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک فوجی کارگو طیارے کو پیر کے روز تہران کے نزدیک حادثہ پیش آیا تھا۔ حادثے کے نتیجے میں طیارے میں سوار 16 افراد میں سے 15 ہلاک اور ایک شدید زخمی ہو گیا۔ یہ طیارہ کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک سے گوشت کی بڑی مقدار لے کر ایران کے مغرب میں واقع کرج کے پیام ہوائی اڈے آ رہا تھا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’’فارس‘‘ کے مطابق بوئنگ 707 طیارہ ہوائی اڈے پر اُترنے کے دوران رن وے سے پھسل گیا جس کے نتیجے میں حادثہ پیش آیا۔

ایرانی صحافی علی جواں مردی نے بدھ کے روز ٹیلیگرام پر اپنے چینل پر ایک رپورٹ پوسٹ کی جس میں ایرانی فوج کے ذرائع کے حوالے سے اُن سینئر افسران کے ناموں کا انکشاف کیا گیا ہے جو طیارے میں سوار تھے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایرانی صحافی سے رابطہ کیا تو اس نے ان معلومات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایرانی حکام نے پوسٹ کی گئی معلومات کی تردید نہیں کی۔ صحافی نے العربیہ ڈات نیٹ سے خصوصی گفتگو میں سوال اٹھایا ہے کہ ایرانی فوج کے انٹیلی جنس افسران "منجمد گوشت لانے والے طیارے" میں کیا کر رہے تھے؟ علی جواں مردی نے واضح کیا کہ "منجمد گوشت کی کہانی درست نہیں ہے"۔

ایرانی عہدے داران کے اعلان کے برعکس صحافی علی جواں مردی نے تصدیق کی ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ ایرانی فضائیہ کا تھا اور اس میں ایرانی فوج اور اس کی انٹیلی جنس کے سینئر اور اہم افسران سوار تھے۔ علی کے مطابق حادثے میں زندہ بچ جانے والا واحد اہل کار کرنل فرشاد مہدوی قلعہ ہے۔

علی جواں مردی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ یہ کرنل زخمی ہو گیا ہے اور غالبا ضرورت کے مطابق اس کی وفات کا اعلان سامنے آ سکتا ہے تا کہ اس راز پر سے پردہ نہ اٹھ سکے کہ یہ تمام افسران کس خفیہ مشن پر تھے۔

یاد رہے کہ ایرانی حکام کی جانب سے پیش کی جانے والی ابتدائی رپورٹ میں طیارے کو کرغزستان کا بتایا گیا تھا۔ بعد ازاں اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ یہ ایرانی فوج کا ایک کارگو طیارہ تھا جو بشکیک سے 40 ٹن منجمد گوشت لے کر آ رہا تھا۔

ایرانی صحافی نے استفسار کیا کہ حادثے میں مارے جانے والے افسران کے ناموں اور ان کے عہدوں پر نظر ڈالی جائے تو ایک ہی سوال ذہن میں آتا ہے کہ ان لوگوں کو کس چیز نے مجبور کیا کہ وہ کرغستان سے منجمد گوشت درآمد کرنے کی ڈیل میں حصہ لیں؟

ایرانی صحافی نے طیارے کے کرغستان سے آنے کے حوالے سے حکومتی بیان پر بھی شکوک کا اظہار کیا ہے۔

علی جواں مردی کے مطابق پیام ایئر پورٹ اور فتح ایئر پورٹ پر ایرانی فوج کا کوئی اسکواڈ موجود نہیں ہے۔ لہذا اگر طیارہ منجمد گوشت لے کر آ رہا ہوتا تو وہ تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ پر اُترتا۔ اس امر سے یہ تصدیق ہو جاتی ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کا مشن اور اس میں موجود کھیپ خفیہ تھی۔ غالبا طیارے میں لدی کھیپ کو ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر کنٹرول فتح یا پیام ایئرپورٹ سے دور اتارا جانا تھا۔