.

داعش مضبوط انٹیلیجنس نیٹ ورک کی بنیاد پر قائم رہی:مصری تحقیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق اور شام 'داعش' مشرق وسطیٰ میں اپنے مضبوط ٹھکانوں سمیت دوسرے ملکوں میں لگنے والی ضربوں کے بعد بدترین شکست وریخت کا شکار ہوئی مگر یہاں یہ سوال موجود ہے کہ کیا داعش کا اپنا طاقتور انٹیلی جنس نظام موجود تھا یا اب بھی ہے؟۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصر میں سرگرم الازھر آبزرویٹری نے اپنی ایک تحقیق میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ آبزرویٹری کا دعوی ہے کہ داعش کا ایک مضبوط انٹیلی جنس نیٹ ورک تھا۔

الازھر آبزرویٹری کی تحقیقات کے مطابق داعش نے انٹیلی جنس ادارہ قائم کر رکھا تھا اور اس کا مرکز شام کے الرقہ شہر میں قائم تھا۔ 'داعش' نے اسے امنیات' کا نام دے رکھا تھا۔ داعش کے انٹیلی جنس ادارے نے یورپی ممالک پرحملوں کی منصوبہ بندی اور فرانس اور بیلجیئم میں حملے کیے گئے۔

الازھر رصدگاہ کو ملنے والی معلومات کے ساتھ فرانسیسی صحافی ماتیو سوک کی معلومات کو بھی شامل کیا گیا۔ ماتیو سوک نے بھی دہشت گرد تنظیموں کے بارے میں تحقیقات کیں۔ اس نے داعش کی عدلیہ سے وابستہ افراد، پولیس اہلکاروں، ایجنٹس اور انٹیلی جنس شعبے کے عہدیداروں کے انٹرویو کیے۔

خوف کے جاسوس

فرانسیسی صحافی سوک نے 'خوف کے جاسوس' کے عنوان سے ایک کتاب تالیف کی جس میں داعش کے جاسوس ادارے کےقیام کے بارے میں تفصیلات بیان کی گئیں۔ فرانسیسی صحافی کے مطابق داعش کے جاسوس ادارے کے قیام میں دو جنگجوئوں عبدالحمید ابو عود المعروف ابو عمر اور حجی بکر کا کردار ہے۔ ابو عمرفرانس میں داعش کے دہشت گردانہ حملوں کا ماسٹر مائینڈ سمجھا جاتا ہے جب کہ حجی بکر صدام حسین کی انٹیلی جنس کا سابق افسر تھا۔ تاہم صھافی کا خیال ہے کہ شام اور عراق کی وسیع اراضی پر قبضے کے لیے حجی بکر نے انٹیلی جنس ادارے کے قیام کو ضروری سمجھا۔

داعش کا انٹیلی جنس ادارہ اگست سنہ 2014ء میں قائم کیا گیا۔ ابو بکر البغدادی کی جانب سے خلافت کےقیام کے اعلان کے چند ماہ کے بعد اسامہ العطار نامی جنگجو کی قیادت میں انٹیلی جنس ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا۔

"امنیات" کن عناصر پر مشتمل ہے؟

داعش کے انٹیلی جنس ادارے'امنیات' کے قیام کا مقصد بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے جنگجوئوں کو فرار سے روکنا اور تنظیم کی حساس معلومات کے افشاء ہونے سے بچانا تھا۔

’’امنیات‘‘ میں کئی یونٹس شامل تھیں جن میں ایک یونٹ خاص طورپر اندرون اور بیرون ملک دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے، خودکش افراد کو بھیجنا، یورپ تک رسائی کی کوشش اور نئی جنگجوئوں کو بھرتی کرنے کے عمل کو شفاف بنانا ہے۔

نئے جنگجوئوں کی بھرتی

ماہرین کا کہنا ہے کہ داعش کے انٹیلی جنس ادارے'امنیات' کے قیام کے ذریعے دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے جنگجوئوں کو بھرتی کرنا اور دوسری انتہا پسند تنظیموں میں 'داعش' کے اثر ونفوذ کو بڑھانا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے حامیوں کی زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل کرنے کے لیے بھی ’امنیات‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس ادارے کے قیام سے یہ تاثر دینے کی بھی کوشش کی گئی ’داعش‘ عالمی سطح پر مضبوط ممالک کی طرح انٹیلی جنس اور سراغ رسانی کا نظام رکھتا ہے۔