.

کیا عراق۔ ایران سرحد منشیات کی اسمگلنگ کا کوری ڈور بن چکی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور ایران کی مشترکہ سرحد 1458 کلو میٹر پرمحیط ہے اور یہ وسیع وعریض علاقہ عراق میں ایران نواز ملیشیا کے زیرتسلط ہے۔ گذشتہ کچھ عرصے سے یہ بحث شد ومد کے ساتھ جاری ہے کہ آیا ایران اور عراق کی سرحد پر کس قسم کی ممنوعہ اشیاء کی اسمگلنگ جاری ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق عراق اور ایران کی سرحد اسمگلروں کے لیے کوری ڈور بن چکاہے جہاں سے نہ صرف منشیات بلکہ دوسری ممنوعہ اشیاء کو آسانی کے ساتھ ایک سے دوسرے ملک منتقل کردیا جاتا ہے۔

عراق کے بارڈ گذرگاہ کے امور کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کاظم العقابی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا دونوں ملکوں کی سرحد پر ایسے بلیک میلرہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ گذرگاہ اتھارٹی مقامی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کی پابند ہے تاکہ تمام گذرگاہوں کو ہرطرح کی غیرقانونی تجارت اور اسمگلنگ سے بچایا جاسکے۔ ان کا کہنا تھاکہ سرحد پرتعینات اہلکاروں کے پاس اختیارات سے رقبہ بہت زیادہ ہے۔ نفری بھی ہے جس کی وجہ سے اسمگلر چوری چھپے منشیات اور دیگر ممنوعہ سامان عراق منتقل کرتے ہیں۔

العقابی کا کہنا تھا کہ مسلح ملیشیائیں گذرگاہوں کے راستے سرگرم ہیں جو سرحدی شہروں میں بھی موجود ہیں۔ یہ لوگ بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں کی مدد سے سرحد پار سے اشیاء کی اسمگلنگ کرتے ہیں۔

تبادلے بھی مسئلے کا حل ثابت نہ ہوئے

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراقی حکومت ایران سے متصل سرحد پر جاری غیرقانونی تجارت اور منشیات کی اسمگلنگ سے سخت نالاں ہے۔ اس نے بار بار سرحدی علاقوں میں تعینات سیکیورٹی اہلکاروں کے تبادلے کیے مگران تبادلوں کا بھی منشیات کی اسمگلنگ پرکوئی اثر نہیں پڑا۔

کاظم العقابی نے کہا کہ رکن پارلیمنٹ ھمام التمیمی نے کہا تھا آٹھ ماہ میں 11 گذرگاہ ڈائریکٹر تبدیل کیے گئے مگریہ تعداد درست نہیں۔ اس عرصے کے دوران 5 ڈائریکٹرز تبدیل کیے گئے ہیں۔ان کے تبادلے اس لیے کئے جاتے رہے ہیں کیونکہ وہ مسلح مافیا اور اسمگلروں کا مقابلہ کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئے تھے۔ انہوں نے عراق اور ایران کی تمام گذرگاہوں پر سیکیورٹی کی تعداد بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

العقابی کا کہنا تھا کہ جب سے انہیں سرحدی گذرگاہ کے امور کا سربراہ مقرر کیا گیا وہ ایران سے منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے موثر کام کررہے ہیں۔ سال 2017ء اور 2018ء کے دوران منشیات کی اسمگلنگ کی 197 کوششیں ناکام بنائی گئیں جب کہ ان سے قبل 32 ایسے کیسز سامنے آئے تھے۔