نیتن یاہو کے سخت ترین حریفوں کی جانب سے انتخابی اتحاد کی تشکیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دو مرکزی حریفوں نے ایک سیاسی اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ اتحاد کا مقصد 9 اپریل کو قبل از وقت ہونے والے قانون ساز انتخابات میں نیتن یاہو کو شکست سے دوچار کرنا ہے۔

اس سلسلے میں اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ بینی گینٹز کی Resilience party اور سابق وزیر خزانہ یائر لبید کی Yesh Atid نے 120 ارکان کے پارلیمنٹ کے انتخابات کے لیے امیدواروں کی مشترکہ فہرست تشکیل دی ہے۔ جیت کی صورت میں حکومت کے ابتدائی ڈھائی سال کے دوران وزیراعظم بینی گینٹز ہوں گے جب کہ بقیہ ڈھائی سال وزارت عظمی کا منصب یائر لبید کے پاس ہو گا۔

یہ اقدام اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کی لیکوڈ پارٹی کے سامنے ایک سنگین چیلنج ثابت ہو گا۔ واضح رہے کہ انتخابی ایجنڈوں میں فلسطینیوں کے ساتھ تصفیے کا عمل کہیں نہیں نظر آ رہا اور ایسا لگ رہا ہے کہ مقابلہ دائیں بازو کے کیمپ کے اندر ہو گا۔

حریفوں کی جانب سے نئے انتخابی اتحاد کی تشکیل کے جواب میں لیکوڈ پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ "آپشن واضح ہے ،،، یا تو لبید اور گینٹز کی بائیں بازو کی حکومت جس کو عرب جماعتوں کی حمایت حاصل ہو گی اور یا پھر نیتن یاہو کی قیادت میں دائیں بازو کی حکومت"۔

یاد رہے کہ نیتن یاہو نے دائیں بازو کی تین شدت پسند چھوٹی جماعتوں کو یکجا کرنے کے واسطے بدھ کے روز ایک معاہدہ طے کیا تھا تا کہ انتخابات کے بعد پارلیمانی بلاک کی نشستوں میں اضافہ کیا جا سکے۔

سروے رپورٹوں کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کی لیکوڈ جماعت کو برتری حاصل ہے۔ تاہم اس بات کا بھی امکان ہے کہ اسرائیل کے جنرل پراسیکیوٹر کی جانب سے 9 اپریل سے قبل نیتین یاہو کے خلاف بدعنوانی کے کئی مقدمات میں فرد جرم عائد کر دی جائے۔ اس طرح ان کی انتخابی مہم بھی متاثر ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں