.

شامی صدر بشارالاسد کا اپنی حکومت بچانے کے لیے حمایت پرایرانی سپریم لیڈر سے اظہار ِتشکر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشار الاسد نے سوموار کے روز ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے تہران میں ملاقات کی ہے۔ ان کا شام میں 2011ء کے اوائل میں اپنے خلاف عوامی احتجاجی تحریک اور پھر خانہ جنگی چھڑنے کے بعد ایران کا یہ پہلا دورہ ہے۔

شامی ایوانِ صدر کے ایک بیان کے مطابق ملاقات کے دوران میں بشارالاسد نے ایران کا شام میں جاری تنازع کے دوران میں اپنی حکومت کی ہر طرح سے حمایت کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے۔

شامی صدر نے اپنے ایرانی ہم منصب حسن روحانی سے بھی ملاقات کی ہے۔

ایران اور شام کی سرکاری خبررساں ایجنسیوں نے ان دونوں ملاقاتوں کی تصاویر جاری کی ہیں۔ان میں بشار الاسد تنہا ہی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور حسن روحانی سے ملاقات کرتے نظر آرہے ہیں اور ان کے ساتھ کوئی اور شامی عہدہ دار نہیں ہے ۔تاہم ان دونوں ملاقاتوں میں سپاہِ پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کو ان کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔

قاسم سلیمانی شام اور عراق میں ایران کے خارجہ فوجی مشنوں میں ایک اہم کردار کے طور پر معروف ہوچکے ہیں اور انھوں نے شامی صدر بشار الاسد کی حمایت میں ایران کے علاوہ پاکستان اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے شیعہ نوجوانوں کو مختلف ملیشیاؤں کی چھتری تلے منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔

ایران کی تربیت یافتہ یہ ملیشیائیں شام اور عراق میں داعش سمیت مختلف باغی گروپوں کے خلاف ان دونوں ملکوں کی سرکاری سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر لڑتی رہی ہیں اور شام میں انھیں اہل ِتشیع کے نزدیک مقدس قرار دیے جانے والے شہروں میں بھی تعینات کیا گیا ہے۔