.

عراق: 'داعش' کی جہنم میں ڈالی گی دسیوں یزیدی خواتین نجات کی منتظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی دہشت گرد تنظیم 'داعش' کی جانب سے عراق کے یزیدی قبیلے کی 50 خواتین کے سرقلم کیے جانے کے جرم کے بعد اطلاعات ملی ہیں کہ سیکڑوں یزیدی مرد اور خواتین اب بھی داعش کے چنگل میں ہیں جو کسی نجات دہندہ کے منتظر ہیں۔

یزیدی قبیلے کے ایک انسانی‌ حقوق کارکن علی حسین الخانصوری نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق اس وقت داعش کے پاس 300 یزیدی افراد موجود ہیں جن میں خواتین، بچے اور جوان شامل ہیں۔ داعش نے اُنہیں مسلسل غیرانسانی ماحول میں رکھا ہوا ہے۔

الخانصوری نے عراقی حکومت کی طرف سے یزیدی قبیلے کےیرغمالیوں کو داعش کے قبضے سے چھڑانے میں لاپرواہی کا مظاہرہ کرنے پر بغداد کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں‌ نے کہا کہ حکومت ذرائع ابلاغ میں یہ دعویٰ‌ کرتی ہے کہ وہ داعش کے چنگل سے یزیدیوں کو رہائی دلانے کے لیے کوششیں کررہی ہے مگر عملا حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ داعش نے 1000 سے زاید یزیدیوں کو حراست میں لیا مگر ان میں سے بہت سے بمباری اور جنگ میں‌مارے گئے۔ جو بچ گئے وہ داعش کے چنگل میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی بسر کررہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں خانصوری کا کہنا تھا کہ شام میں 'داعش' کے جنگجو سیرین ڈیموکریٹک فورسز کی قائم کردہ چوکیوں سے بہ حفاظت گذررہے ہیں مگرشام میں زیرزمین قائم کی گئی جیلوں سے یزیدی قیدیوں کو چھڑانے والا کوئی نہیں ہے۔

اطلاعات کے مطابق شام اور عراق کے سرحدی علاقے الباغوز میں داعش کےہاں یزیدی قبیلے کی 34 خواتین قید ہیں جب کہ چند ہقتے قبل داعش نے 50 یزیدی خواتین کو قتل کردیا تھا۔

عراق کے صوبہ کردستان کے یزیدی امور کے ڈاریکٹوریٹ کے مطابق داعش کے حملے کے بعد عراق میں 3لاکھ 60 ہزار داعشی جنگجو بے گھر ہوگئے تھے۔ سنہ 2014ء کو عراق پرداعش کے حملے کے وقت 1293 یزیدیوں کو ہلاک کردیا تھا۔ داعش کے حملوں اور جنگ کے نتیجے میں یزیدی قبیلے کے 2485 بچے یتیم ہوئے۔سنجار کے علاقے میں داعش کی جانب سے یزیدی قبیلے کے مقتولین کی 71 اجتماعی قبریں دریافت ہوچکی ہیں۔