ایس ڈی ایف نے داعشی ارکان سمیت الباغوز سے 3 ہزار افراد کو نکال لیا
شام میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے الباغوز گاؤں سے 3 ہزار افراد کو نکال لیا ہے جن میں داعش تنظیم کے 200 ارکان شامل ہیں۔
مذکورہ داعشی عناصر ہتھیار ڈال کر کر گاؤں سے باہر آئے اور ان کا انخلا ایس ڈی ایف کے زیر انتطام ٹرکوں کے ذریعے عمل میں آیا۔
ادھر کرد فورسز کے میڈیا بیورو کے سربراہ مصطفی بالی کا کہنا ہے کہ بعض شہریوں کے علاوہ 1000 کے قریب شدت پسند بھی ابھی تک الباغوز کے اندر موجود ہیں۔
دوسری جانب عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ خود کو ایس ڈی ایف کے حوالے کرنے والے داعشی عناصر کو الباغوز کے شمال سے منتقل کر کے العمر آئل فیلڈز پہنچا دیا گیا ہے جو امریکی فورسز کے زیر کنٹرول ہے۔
ایس ڈی ایف نے غالب گمان ظاہر کیا ہے کہ داعش کے بقیہ عناصر اُن سرنگوں میں چھپے ہوئے ہیں جو انہوں نے ایک مربع کلو میٹر کے رقبے کے اندر کھودی تھیں۔ یہ علاقہ فضائی اور زمینی بم باری کے نشانے پر ہے تاہم گاؤں میں بعض شہریوں کی موجودگی اور داعش کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں نے علاقے پر حملے کا ٹیمپو سست کر دیا ہے۔
ان تمام امور کے باوجود واشنگٹن نے باور کرایا ہے کہ داعش کی ہزیمت کا اعلان اور شام میں اس کے وجود کا اختتام بہت جلد ہو گا۔
-
'الباغوز' آپریشن میں 150 داعشی جنگجووںنے ہتھیار ڈال دیے
مشرقی شام میں 'داعش' کے آخری گڑھ الباغوز میں کرد ڈیموکریٹک فورسز کی طرف سے آپریشن ...
مشرق وسطی -
شام: الباغوز سے نقل مکانی کرنے والوں کی 'العربیہ' سے گفتگو
شام میں امریکی حمایت یافتہ کرد فورسز کی جانب سے دیر الزور میں 'داعش' کے آخری گڑھ ...
مشرق وسطی -
'ایس ڈی ایف' کا الباغوز میں 'داعش' کے خلاف گھمسان کی لڑائی کا امکان
شام میں امریکی حمایت یافتہ کرد ڈیموکریٹک فورس'ایس ڈی ایف' نے کہا ہے کہ مشرقی شام ...
مشرق وسطی