.

خواتین کے بارے میں ایرانی رجیم اور 'داعش' کے نظریات ایک جیسے ہیں: فائزہ ہاشمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق اصلاح پسند صدر علی اکبرہاشمی رفسنجانی کی صاحب زادی فائزہ رفسنجانی نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ملک میں عورتوں کے ساتھ روا رکھے گئے ظالمانہ سلوک پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی رجیم اور 'داعش' کے خواتین کے حوالے سے نظریات ایک جیسے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق خواتین کے ذاتی مسائل کو سیاسی رنگ دینے، انہیں دین کے ساتھ جوڑنے کے ساتھ ایران میں خواتین کے ساتھ برتے جانے والے امتیازی سلوک کی روک تھام قابل مذمت ہے۔

جمعہ کےروز'یورو نیوز' سے بات کرتے ہوئے فائزہ ہاشمی کا کہنا تھا کہ ایرانی معاشرہ اور عالمی برادری ایرانی رجیم کو خواتین کے حوالے سے 'داعشی' نظریات اپنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

انہوں‌نے ایرانی صدر کی امور نسواں کی مشیرہ معصومہ ابتکار کے ملک میں خواتین کے حقوق کی بہتری کے 40 اشاریوں کو بھی مشکوک قراردیا اور کہا کہ معصومہ ابتکار کے بیان کو ملک میں خواتین کی تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں ترقی کے لیے بہ طوردلیل پیش نہیں کیا جا سکتا۔

ایک سوال کے جواب میں فائزہ ہاشمی کاکہنا تھا کہ ایران میں خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے کسی قسم کے موثر اقدات نہیں کیے گئے۔ ریاست کے تمام اہم اور اعلیٰ عہدے صرف مردوں کے لیے ہیں ملک میں کوئی ایک بھی خاتون جج نہیں جب کہ ایران میں بادشاہت کے دور میں کئی خواتین جج تھیں۔