مصر میں حماس کی قیادت اور اسرائیلی انٹیلی عہدیدارکی خفیہ ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عرب ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ ہفتے فلسطینی تنظیم'حماس' کے مرکزی رہ نمائوں نے مصر حکام کی وساطت سے اسرائیل کے جنرل انٹیلی جنس ادارے'شاباک' کے چیئرمین نداف ارگمان سے ملاقات کی تھی۔

'عرب انڈی پینڈنٹ' ویب سائیٹ کے مطابق حماس اور اسرائیلی عہدیداروں کے درمیان یہ بالواسطہ ملاقات مصری انٹیلی جنس کے ہیڈ کواٹر میں ہوئی۔ ملاقات کے موقع پر مصری انٹیلی جنس میجر جنرل عباس کامل بھی موجود تھے اور اس کی تجویز اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ ارگمان کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔ ملاقات کا مقصد غزہ میں جنگ بندی میں توسیع کے لیے فریقین کی شرائط کے بارے میں براہ راست آگاہی حاصل کرنا تھا۔

ویب سائیٹ کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ کو حماس کی قیادت کے ساتھ ملاقات سےقبل وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی جانب سے 'فری ہینڈ' دیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی خفیہ ادارے'شاباک' کے چیف ارگمان نے غزہ میں جنگی قیدی بنائے گئے اسرائیلی فوجیوں اور مقتول فوجیوں کی لاشوں کی حوالگی پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں‌ نے غزہ میں جاری حق واپسی مظاہروں، رات کے احتجاج اور سرحد پر دیگر تمام مزاحمتی کارروائیوں کوبند کرنے کا مطالبہ کیا۔

اس کے بدلے میں اسرائیل نے حماس کو یقین دلایا کہ تل ابیب غزہ کی پٹی پرعاید کردہ پابندیوں میں نرمی کرنے کو تیار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غرب اردن اور غزہ کے درمیان آمد و رفت کے لیے استعمال ہونے والی گذرگاہوں، بیت حانون اور کرم ابو سالم پر براہ راست حماس کے ساتھ معاملات طے کرے گا۔ اسرائیل نے رفح گذرگاہ اور صنعتی زون کے کھولنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔

ذرائع کا کہناہے کہ ملاقات کرنے والے حماس رہ نمائوں کی وفد کی قیادت موسیٰ ابو مرزوق نے کی مگر دوسرے رہ نمائوں کی شناخت نہیں ہوسکی۔ ملاقات خوش گوار ماحول میں ہوئی۔ حماس کے وفد نے اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ سے عبرانی زبان میں بات چیت کی۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے اس خبر پرکوئی رد عمل سامنے نہیں آیا اور اس طرح کی کسی ملاقات سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب حماس نے بھی اس موضوع پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ عرب ویب سائیٹ کے مطابق فریقین کے درمیان بات چیت میں طے پائے امور پر عمل درآمد کی کوششیں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں مصری انٹیلی جنس دونوں فریقوں کے ساتھ تعاون کررہا ہے۔

گذشتہ جمعرات کو جب اسرائیل دارالحکومت تل ابیب میں دو میزائل گرے تو غزہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ اسرائیل نے اس حملے کے جواب میں غزہ میں حماس کے ٹھکانوں پر 100حملے کیے تاہم حماس اور اسلامی جہاد نے تل ابیب پر حملوں سے لا تعلقی کا اظہار کیا ہے۔ اس کشیدگی کے بعد بھی مصر نے غزہ اور اسرائیل کےدرمیان کشیدگی بڑھنے نہیں دی بلکہ معاملات کو ٹھنڈہ کردیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں