.

مصر کو جرمن آبدوزوں کی فروخت پر نیتن یاھو اور ان کے مخالفین میں تنازع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کی جانب سے مصر کو آبدوزوں کی فروخت کے حوالے سے خبریں سامنے آنے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور ان کے سیاسی حریفوں کےدرمیان نئی محاذ آرائی شروع ہوگئی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو نے عبرانی زبان میں نشریات پیش کرنے والے' چینل 12' کو غیر روایتی انداز میں دیے گئے انٹرویو میں مخالفین پر الزام عاید کیا کہ وہ مصر کو آبدوزوں کے معاملے کو بڑھا چڑھا کر 'خون کی تشہیر' کی کوشش کررہے ہیں۔

نیتن یاھو نے یہ انٹرویو امریکا روانگی، صدر ٹرمپ سے ملاقات اور امریکا میں یہودیوں کی نمائندہ تنظیم'ایپک' کے سالانہ اجلاس میں شرکت سے قبل دیا ہے۔

نیتن یاھو ٹی وی چینل کے اسٹوڈیو میں داخل ہوئے پروڈیوسر شام کی خبریں نشر کرنے کی تیاری کررہے تھے۔ ٹی وی کےعملے کو وزیراعظم کی آمد کے بارے میں تھووڑی ہی دیر پہلے مطلع کیا گیا تھا۔

اسرائیلی وزیراعظم پر بدعنوانی کے کئی کیسز چل رہے ہیں۔ جرمنی سے مہنگی آبدوزوں کی خریداری اور جرمن حکومت کو وہی آبدوزیں مصر کو بھی فروخت کرنے کی اجازت دینے پر نیتن یاھو کو تنقید کا سامنا ہے۔ نیتن یاھو پرالزام ہے کہ انہوں‌ نے جرمنی سے'ٹیسنکروپ' کی تیار کردہ آبدوزیں اور دیگر جنگی آلات کی خریداری کے لیے قومی خزانے سے 2 ارب ڈالر کی رقم وصول کی۔

تاہم نیتن یاھو آبدوزوں کی خریداری کے سودے میں کسی قسم کی مالی بدعنوانی یا اس ڈیل سے مالی فائدہ اٹھانے کی سختی سے تردید کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'وائیٹ گرین' اتحاد میں شامل سیاست دانوں بینی گانٹز، یائیر لپیڈ، موشے یعلون اور گیبی اشکنزئی کو جھوٹ کی سیاست چھوڑنا ہوگی۔

نیتن یاھو کے مخالفین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے جرمن کمپنی 'ٹیسنکروپ' سے غیر ضروری طورپر آبدوزیں خریدیں۔ انہوں نے آبدوزوں کے لیے ایک خطیر رقم جرمن کمپنی کو دی کیونکہ اس کمپنی میں نیتن یاھو کے اپنے شیئرز ہیں۔انہوں نے اپنے‌شیئرز بڑھانے کے لیے آبدوزیں خرید کی ہیں۔

سیاسی مخالفین کا مزید کہنا ہے کہ نیتن یاھو نے وزارت دفاع کے علم میں لائے بغیر جرمنی کو آبدوزیں مصر کو فروخت کرنے کی اجازت دے کر ملک کے ساتھ خیانت کی۔

تاہم نیتن یاھو نے مخالفین پر سستی شہرت حاصل کرنےاور ان کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچان کا الزام عاید کیا ہے۔
انٹرویو میں نیتن یاھو نے بتایا کہ انہوں نے سنہ 2007ء میں جرمن کمپنی میں 6 لاکھ ڈالر کے شیئرز خریدے مگر سنہ 2010ء میں انہیں فروخت کردیا۔ ان کا کہناتھا کہ تین سال کے دوران نہیں 3 ملین ڈالر کا فائدہ حاصل ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ جرمنی کے ساتھ آبدوزوں کی خریداری کا فیصلہ ایک سال قبل کیا گیا جب ان کے کمپنی میں کسی قسم کے شیئرز نہیں تھے۔ نیز اس کمپنی کا آبدوزوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں نیتن یاھو کا کہنا تھا کہ مصر کو جرمن آبدوزوں کی فروخت کی اجازت دینے کے بارے میں وزارت دفاع کو مطلع نہ کرنے کا مقصد قومی سلامتی کو یقینی بنانا تھا تاہم اسرائیل کی قومی سلامتی کے مشیر اور پراسیکیوٹر جنرل اس ڈیل سے آگاہ تھے۔