.

غزہ میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ عوام میں نمودار، اپنا تباہ شدہ دفتر دیکھا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کے فضائی حملے رُکنے کے بعد حماس کے رہ نما اسماعیل ہنیہ عوام میں نمودار ہوگئے ہیں اور انھوں نے غزہ میں اپنے تباہ شدہ دفتر کا ملبہ دیکھا ہے۔ مصر کی ثالثی کے نتیجے میں اسرائیلی فوج نے غزہ پر فضائی حملے روک دیے ہیں اور فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے بھی اسرائیلی علاقوں کی جانب راکٹ باری روک دی ہے ۔

اسرائیلی فوج نے سوموار کو راکٹوں کے جواب میں فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا اور اس نے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں حماس اور دوسری تنظیموں کی تنصیبات کو بمباری میں نشانہ بنایا ہے۔ تاہم ان حملوں میں کسی فلسطینی کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ بدھ کے روز اسرائیل کے جنوبی علاقے میں اسکول دوبارہ کھل گئے تھے اور غزہ میں بھی اسکولوں میں تدریسی سرگرمیاں دو بارہ شروع ہوگئی ہیں۔غزہ میں شاہراہوں پر بھاری ٹریفک دیکھا گیا ہے ۔

حماس کے رہ نما اسماعیل ہنیہ اپنے کسی خفیہ مقام سے نمودار ہوکر عوام کے سامنے آئے ہیں اور انھوں نے اپنے تباہ شدہ دفتر کو ملاحظہ کیا ہے۔ اس موقع پر انھوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ قبضے کو کسی مخمصے کا شکار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ہمارے عوام کے عزم کو توڑ سکتا ہے‘‘۔اسرائیلی فوج نے سوموار کو ان کے دفتر اور دوسری عمارتوں پر فضائی بمباری کی تھی۔

دوسری جانب اسرائیل کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ درفنطنی چھوڑی ہےکہ’’ ہنیہ کو کوئی بات کرنے سے پہلے اپنے لیے کوئی دفتر تلاش کر لینا چاہیے‘‘۔

غزہ پر اسرائیل کی مسلط کی جانے والی اس نئی جنگ کے بادل عارضی طور پر چھٹ تو گئے ہیں لیکن جنگ کا خطرہ مکمل طور پر ٹلا نہیں ہے کیونکہ اسرائیل میں 9 اپریل کو پارلیمانی انتخابات منعقد ہورہے ہیں اور وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ان میں کامیابی کے لیے سکیورٹی کے ایشو کو زیادہ اولیت دے رہے ہیں۔ان کا اس مرتبہ ایک سابق اسرائیلی جنرل کے زیر قیادت اتحاد سے سخت مقابلہ ہے ۔اس لیے وہ فلسطینیوں کے خلاف سخت موقف اختیار کرکے انتہا پسند اسرائیلی ووٹروں کی حمایت کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔

انھوں نے گذشتہ سوموار کو اسرائیل کی جانب فلسطینی علاقے سے راکٹ حملوں کے جواب میں سخت کارروائی کی دھمکی دی تھی۔اسرائیلی علاقے میں راکٹ گرنے سے سات افراد زخمی ہوگئے تھے جبکہ اسرائیلی فوج کے غزہ پر فضائی حملوں میں بارہ فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔

غربِ اردن

ادھر غربِ اردن کے علاقے میں بھی تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں۔قریباً ڈیڑھ سو فلسطینی طلبہ نے ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران میں اسرائیلی فوجیوں کی جانب آتش گیر مواد پھینکا اور پتھراؤ کیا ۔

اس کے ردعمل میں اسرائیلی فوجیوں نے ان پر اشک آور گیس کے گولے پھینکے اور ربر کے خول والی دھاتی گو لیاں چلائی ہیں ۔فلسطینی طلبہ بیر زیت یونیورسٹی میں ایک روز قبل اسرائیلی فوج کی چھاپا مار کارروائی کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ربر کی گولیاں لگنے سے تین فلسطینی زخمی ہوگئے ہیں ۔تاہم ان کے مبیّنہ پتھراؤ سے کوئی اسرائیلی فوجی زخمی نہیں ہوا ہے۔

اسرائیلی فوج نے غربِ اردن میں مختلف چھاپا مار کارروائیوں کے دوران میں گیارہ فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔اس نے ان پر دہشت گردی میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا ہے لیکن اس کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔