.

نصر اللہ نے اسرائیل کے ساتھ جنگ اور اپنے مارے جانے کا امکان ظاہر کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ نے توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ موسم گرما میں اسرائیلی کے ساتھ اچانک جنگ چھڑ سکتی ہے۔ یہ بات کویتی اخبار "الرأی" نے اتوار کے روز شائع ایک رپورٹ میں بتائی ہے۔

اخبار کے مطابق نصر اللہ نے ایک اجلاس کے دوران حزب اللہ کی علاقائی قیادت کو آگاہ کیا کہ "ہو سکتا ہے کہ میں آپ لوگوں کے درمیان اب طویل عرصے نہ رہوں۔ میرے ساتھ تنظیم کی صف اول کی قیادت بھی (ماری) جا سکتی ہے۔ اسرائیل تنظیم کی قیادت کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے.. تاہم اس کا مطلب حزب اللہ کا اختتام نہیں ہے کیوں کہ تنظیم اپنے وجود کے حوالے سے افراد پر انحصار نہیں کرتی بلکہ حزب اللہ اس ملک میں باقی رہنے والے معاشرے کا ایک حصہ ہے"۔

دوسری جانب لبنانی میڈیا نے حزب اللہ کے غیر مذکور ذرائع کے حوالے سے "الرأی" اخبار کی رپورٹ کی نفی کی ہے۔

کویتی اخبار نے اپنے ذریعے کو ظاہر کیے بغیر بتایا ہے کہ نصر اللہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ "اس بات کے بہت سے دلائل ہیں کہ اسرائیل 2006 کی جنگ کی طرح سب کو حیران کرنے کے واسطے کوشاں ہے۔ تاہم نتنياہو کسی طور بھی ہچکچاہٹ کا شکار رہنے والے اولمرٹ کی طرح نہیں ہے.. اسرائیل نے 2008 میں جو کچھ غزہ میں کیا وہ 2019 میں دہرائے جانے کا امکان ہے تا کہ حزب اللہ کی جانب سے آئندہ خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکے.. لہذا لبنانی عوام کو تمام تر امکانات کے لیے تیار رہنا ہو گا"۔

حزب اللہ کے اندازے کے مطابق جنگ چھڑنے کی صورت میں اسرائیل ناقورہ اور یہاں تک کہ شبعا فارمز سے بھی تمام تر یہودی آباد کاروں کو نکال لے گا تا کہ "حزب الله" کو سرحد پار کرنے اور ان آباد کاروں کو یرغمال بنانے سے روکا جا سکے۔

با خبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل نصر اللہ کا ایسا گمان کبھی دیکھنے میں نہیں آیا جس کے سبب اسرائیل کے ساتھ جنگ کے امکان کا تناسب 50/50 سے بڑھ کر 70/30 ہو گیا ہے۔ آئندہ جنگ کتنی شدید ہو گی یہ کسی کو نہیں معلوم تاہم ایک خیال پھیلا ہوا ہے کہ اسرائیل نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں تباہ کرنے کے لیے تقریبا 1000 سے 2000 تک اہداف کی فہرست تیار کی ہوئی ہے۔ یہ بات بھی یقینی ہے کہ اسرائیل کو نصر اللہ کے مقام کا معلوم ہو گیا تو وہ اسے ہلاک کرنے کے لیے جنگ شروع کر دے گا۔ اس موقف کی بنیاد پر اسرائیلی قیادت انے ملک کے اندر رائے عامہ کو قائل کرنے میں بڑی حد تک کامیاب ہو سکے گی۔

کویتی اخبار "الرأی" کا کہنا ہے کہ نصر اللہ کی گفتگو اپنی قیادت کے لیے انتباہ ہے تا کہ وہ تمام تر احتیاطی اقدامات کر لے اور آئندہ کے لیے ہائی الرٹ ہو جائے۔

یہ امکان ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب لبنان کی اقتصادی حالت سنگین ہے اور وہ ایک تباہ کن جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

با خبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے پاس موجود اسلحہ خانہ اس امر کے لیے کافی ہے کہ وہ کافی عرصے تک اندھا دھند طور پر یومیہ سیکڑوں میزائل داغ سکتی ہے۔

حزب اللہ کی جانب سے اچانک مایوسی کا موقف اپنانے کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ ان میں خطے میں امریکی فضائیہ اور بحریہ کی نقل و حرکت، نیتن یاہو کا غزہ پٹی کے ساتھ برتاؤ، اسرائیلی وزیراعظم کے لیے ٹرمپ کی لا محدود سپورٹ، کئی ممالک کی جانب سے "حزب الله" کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنا، ایران کے لیے عالمی عداوت اور اس کا محاصرہ اور اسرائیل کے انتخابات میں دائیں بازو کے شدت پسندوں کی کامیابی شامل ہے۔