امریکا کا ایرانی تیل کے سب سے بڑے خریدار چین کو اضافی مہلت کے حوالے سے انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دو اہم عہدے داران کا کہنا ہے چین کو ایران سے تیل کی مصنوعات خریدنے کا سلسلہ بتدریج ختم کرنے کے لیے مہلت دینے یا مختصر مدت کے لیے استثناء دینے کے حوالے سے کسی طور نہیں سوچا جا رہا۔ امریکی عہدے داران نے یہ بات اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتائی۔

اس سے قبل واشنگٹن نے پیر کے روز ایرانی تیل کے خریدار ممالک سے اچانک مطالبہ کر ڈالا تھا کہ وہ یکم مئی سے اس خریداری کا سلسلہ روک دیں ورنہ انہیں پابندیوں کا سامنا کرنا ہو گا۔

جمعے کے روز مذکورہ عہدے داران میں سے ایک نے کہا کہ ایرانی تیل کے سب سے بڑے صارف چین کے ساتھ امریکی موقف بالکل واضح تھا کہ واشنگٹن نومبر میں دیے جانے والے استثناء کے بعد پابندیوں کے حوالے سے کوئی اضافی چھوٹ پیش نہیں کرے گا۔

امریکی وزارت خارجہ نے اس حوالے سے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

امریکی انتظامیہ نے نومبر 2018 میں چین اور سات دیگر ممالک کو 180 دن کی چھوٹ دی تھی تا کہ اس دوران یہ ممالک ایران سے تیل کی خریداری کو بڑے پیمانے پر کم کر لیں۔ اس چھوٹ کی مدت اختتام کے قریب ہے۔

دونوں امریکی ذمے داران کا کہنا ہے کہ چین کے تیل کی درآمد کے لیے متبادل ممالک موجود ہیں جن میں امریکا اور سعودی عرب شامل ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے پیر کے روز اپنے اس ارادے کا اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کی تیل کی برآمدات کو کم کر کے صفر تک لانا چاہتی ہے۔ اس کے جواب میں ایرانی پاسداران انقلاب نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دے دی۔ آبنائے ہرمز بحری جہازوں کے لیے ایک اہم آبی گزر گاہ ہے جو مشرق وسطی میں خام تیل پیدا کرنے والے ممالک کو ایشیا، یورپ اور شمالی امریکا کی منڈیوں سے مربوط کرتی ہے۔

امریکی عہدے داران میں سے ایک نے باور کرایا ہے کہ "جہاز رانی کی آزادی کو معطل کرنے کی کوئی بھی کوشش سب سے پہلے ایران کے لیے عذاب ثابت ہو گی اور پھر اس کے بعد عالمی برادری کے کچھ حصے کو متاثر کرے گی"۔

اگر چین نے ایران سے تیل کی خریداری کی سطح کو صفر تک کم نہیں کیا تو ٹرمپ انتظامیہ چینی بینکوں کو امریکی مالیاتی نظام تک پہنچنے سے روکنے کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔ اس پیش رفت کے دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان مالیاتی روابط اور کاروباری سرگرمیوں پر ناپسندیدہ نتائج مرتب ہوں گے جب کہ امریکا اور چین واقعتا تجارتی اختلافات کے حل کے واسطے مذاکرات کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں