.

ایران میں فٹ بال گرائونڈ تماشائیوں کےدرمیان میدان جنگ بن گیا، ایک شخص ہلاک 245 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے دارالحکومت تہران میں'آزادی اسٹیڈیم' میں دو مقامی فٹ بال ٹیموں کے حامیوں کے درمیان ہونےوالے تصادم کے نتیجے میں کم سے کم ایک شخص ہلاک اور تین سو کےقریب زخمی ہوگئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جمعہ کی شام 'برسبولیس' اور 'سباھان' ٹیموں کے درمیان آزادی اسٹیڈیم میں فٹ بال کا میچ منعقد ہونے سے قبل ہی دونوں ٹیموں کے تماشائی اور حامی ممنوعہ بائونڈری عبور کرکے گرائونڈ کے اندر داخل ہوگئے۔ اس کےبعد دونوں ٹیموں کے تماشائی دوسرے سے گتھم گتھا ہوگئے۔

نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی 'مہر' کے مطابق ایک ٹیم کے ذمہ داروں کی طرف سے ممنوعہ رکاوٹوں ہٹا دیں جس کے بعد اس کے حامی میدان میں کود پڑے۔

دونوں ٹیموں کےحامیوں کےدرمیان تصادم اس وقت پیدا ہوا جب 'برسبولیس' ٹیم کے حامیوں کو گرائونڈ میں مخصوص اور کھلاڑیوں کےزیادہ قریب جگہ دی گئی۔ اس پر سباھان ٹیم کے حامیوں نے اپنی کرسیاں توڑ ڈالیں اور میدان میں کود پڑے۔ دونوں ٹیموں کے حامیوں کےدرمیان ہونےوالےتصادم کے بعد پولیس اور اسپیشل فورس طلب کرنا پڑی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق تصادم کے دورام گرائونڈ میں تماشائیوں کے بیٹھنے کےلیے بنائی گئی100 نشستیں توڑ دی گئیں۔

ایک دوسری نیوز ایجنسی'ایسنا' کے مطابق سباھان ٹیم کےتماشائی اسٹیڈیم کی جنوبی سمت میں نچلی سیٹوں پر براجمان تھے۔اس موقع پربرسبولیس ٹیم کےحامیوں‌نے نا مناسب زبان میں نعرے لگانے شروع کردیے۔انہوں‌نے برسبولیس کےتماشائیوں پر پتھر بھی پھینکے۔ اس کےبعد دونوں ٹیموں کےدرمیان تصادم ہوگیا جسےروکنے کے لیے پولیس طلب کرنا پڑی۔ ایرانی پولیس نے فٹ بال گرائونڈ میں دھینگا مشتی کے الزام میں 10 افرادکوحراست میں لے لیا۔