غزہ پر اسرائیل کے تباہ کن فضائی حملوں کے بعد جنگ بندی کی اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی فوج کے گذشتہ تین روز کے دوران میں غزہ کی پٹی پر تباہ کن فضائی حملوں اور جنوبی اسرائیل کی جانب فلسطینی مزاحمت کاروں کی راکٹ باری کے بعد فریقین میں جنگ بندی طے پا گئی ہے۔ دو فلسطینی عہدے داروں کے مطابق مصر کی ثالثی کے نتیجے میں سوموار کو علی الصباح یہ جنگ بندی طے پائی ہے۔

اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے اتوار کو غزہ کی پٹی پر تباہ کن بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں حماس کے ایک کمانڈر حامد احمد عابد خدری سمیت انیس فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ شہر میں کمانڈر حامد کی ایک کار پر اہدافی فضائی حملہ کیا تھا اور 2014ء کے بعد غزہ کی پٹی میں اس کی حماس کے خلاف اس نوعیت کی یہ پہلی کارروائی تھی۔ غزہ کی پٹی سے اسرائیل کے جنوبی علاقوں کی جانب راکٹوں اور میزائلوں کے حملے میں چار شہری ہلاک ہوگئے ہیں ۔

دو فلسطینی عہدے داروں نے غزہ کی حکمراں حماس کے ملکیتی ایک ٹی وی اسٹیشن کو بتایا کہ آج مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چار بجے (گرینچ معیاری وقت 0130جی ایم ٹی) سے فائر بندی ہو گئی ہے۔ اس کے بعد جانبین کے درمیان تشدد کا سلسلہ رک گیا ہے اور اسرائیلی فوج نے کوئی نیا حملہ نہیں کیا ہے۔

اسرائیلی حکام نے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے کہ آیا یہ جنگ بندی طے پا گئی ہے لیکن صہیونی فوج کا کہنا ہے کہ جنوبی اسرائیل میں لڑائی کے آغاز کے بعد شہریوں پر عاید کردہ حفاظتی قدغنیں آہستہ آہستہ ختم کی جارہی ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی سے جمعہ کے بعد جنوبی شہروں اور قصبوں کی جانب 600 سے زیادہ راکٹ اور دوسرے میزائل فائر کیے گئے تھے۔ ان میں سے 150 کو آئرن ڈوم میزائل شکن نظام نے ناکارہ بنا دیا تھا ۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں مزاحمتی گروپوں کے قریباً 320 اہداف کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں