حزب اللہ کا استعمال شدہ گولے کا تحفہ قبول کرنے پر لبنانی وزیرخارجہ کو سخت تنقید کا سامنا
حال ہی میں لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی طرف سے وزیر خارجہ جبران باسیل کو ایک استعمال شدہ گولے کا خول تحفے میں دیا گیا جس پر سوشل میڈیا پر سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ شہریوں نے حزب اللہ ملیشیا کا یادگاری تحفہ قبول کرنے پر جبران باسیل کو شدید تنقید اور تند وتیز حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حزب اللہ ملیشیا کی طرف سے جبران باسیل کو یہ "تحفہ" جبیل گورنری کے علاقے راس اسطاء کے دورے کے دوران دیا گیا۔ اس موقع پرلبنانی وزیر دفاع الیاس بو صعب جو خود بھی حزب اللہ ملیشیا کے اتحادی سمجھے جاتے ہیں ان کے ہمراہ تھے۔ حزب اللہ ملیشیا نے 2017ء کے جرود عرسال معرکے کے دوران استعمال کردہ ایک گولہ تحفے میں جبران باسیل کو پیش کیا۔
تحفےمیں پیش کردہ گولے پر 'نیشنل فریڈم پارٹی اور حزب اللہ ملیشیا کے پرچم بنائے جانے کےساتھ عزت مآب مزاحمتی وزیر کی خدمات کو سراہا گیا ہے۔
لبنانی رکن پارلیمنٹ زیاد حواط نے ٹویٹ کی کہ جبیل کی تاریخ میں ہمارے کسی معزز مہمان کو گولے کا تحفہ دینا اس علاقے کی تاریخ کو مسخ کرنے اس سے بدتر کوشش نہیًں ہو سکتی۔
سابق رکن پارلیمنٹ فارس سعید نے لکھا کہ ہمارے وزیر خارجہ کو گولہ وصول کرنے کے بجائے جبیل میں دفتر کھول لینا چاہیے مگر وہ ایسا نہیں کر سکتے کیونکہ جبیل آزاد ہے۔
-
نکولس میڈورو کے شامی نژاد دست راس "العسیمی" کے حزب اللہ اور ایران سے خفیہ تعلقات
امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" نے انکشاف کیا ہے کہ اسے وینزویلا کے انٹیلی ...
بين الاقوامى -
یو این' جنرل سیکرٹری کا حزب اللہ سے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے عالمی ادارے کی ششماہی رپورٹ میں ...
مشرق وسطی -
حزب اللہ لبنان سرحد پر کارروائی کے وقت اتحادیوں سے کوئی رابطہ نہیں کرتی:وزیر خارجہ باسیل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گولان پر اسرائیل کی خود مختاری تسلیم کرکے ایک منفرد مثال ...
مشرق وسطی