'داعش' کے اسلامی تعلیمات کے منافی پانچ عجیب وغریب فتوے

'جو داعش' کا حامی نہیں اس کا کوئی روزہ قبول نہیں ہوگا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کے دارالافتاء نے شدت پسند گروپ 'داعش' کی طرف سے جاری کردہ پانچ فتووں کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے انہیں اسلامی تعلیمات اور قرآن وسنت کے منافی قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ کےمطابق مصری دارالافتاء کی جانب سے جاری کردہ بیان میں 'داعش' کے رمضان المبارک کی مناسبت سے جارہ کردہ 5 فتاویٰ پر قرآن وسنت کی روشنی میں ڈالی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہےکہ داعش کا پہلا فتویٰ روزہ توڑنے سے متعلق ہے۔ داعش کی طرف سے اپنے تنظیم کے کارکنوں کو جنگ کی صورت میں روزہ توڑنے کی اجازت دی گئی اور کہا گیا کہ جنگ کی حالت میں جسمانی طاقت کو برقرار رکھنا ضروری ہے اور حالت جنگ میں داعش کے جنگجو روزہ توڑ سکتےہیں۔

دوسرا فتویٰ بھی روزے کے متعلق ہے جس میں 'داعش' کے ایک 'مفتی' نے فتویٰ دیا کہ ہر وہ شخص جو داعش میں شامل نہیں وہ منافق ہے اور اس کے روزے کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس کا روزہ باطل ہے۔ اس پر حد نافذ ہوگی۔

تیسرے عجیب وغریب فتوے میں خواتین کو ماہ صیام کےدوران گھروں سے باہر نکلنے سے منع کیا گیا اورکہا کہ خواتین کا روزوں میں گھروں سےباہرقدم رکھنا مسلمانوں میں فتنہ اور فساد پیدا کرنے کا باعث بنےگا۔ البتہ خواتین کو مغرب کے بعد گھروں سے باہر جانے کی اجازت دی گئی۔

چوتھے فتوے میں کہا گیا کہ داعش نے اپنے زیرانتظام علاقوں میں ماہ صیام کے تیسرے اور آخری عشرے میں عیدالفطر تک بازار بند کردیئے اور کہا گیا کہ یہ ایام صرف عبادت کے لیے مختص ہیں۔

پانچویں فتوےمیں داعش کےایک مفتی نے کہاکہ جو شخص 'داعش' کو پسند نہیں‌ کرتا اس کا روزہ قبول نہیں ہوگا۔ اسے سوائے بھوک اور پیاس کے روزے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ حمص میں داعش کے مفتی کی طرف سے جاری کردہ فتوے میں‌کہا گیا ہے جو مسلمان یہ چاہتا ہےکہ اس کا روزہ قبول ہوتو وہ داعش سے محبت کرے۔

داعش کے ان عجیب وغریب فتاویٰ پر مسلمان اہل علم نے سخت تنقید کی ہے۔ جامعہ الازھر میں شعبہ اسلامیات کے سربراہ ڈاکٹر محمد عبدالعاطی نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے بات کرتے ہوئےکہا کہ اسلام میں روزہ چھوڑنے کے لیے سفر اور مرض کی شرائط ہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ "أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ ۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ على سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۚ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ، فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ، وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ".

گنتی کےچند دن ہیں۔ اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یاسفرمیں تو وہ دوسرے ایام میں گنتی پوری کرلے۔ اور جو لوگ فدیہ دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں تو وہ مسکین کو کھانا کھلائیں۔ جو زیادہ بھلائی کرسکتا ہو تو اس کے لیے بہتر ہے۔ اگر تم روزہ رکھو تو وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔

انہوں نے داعش کے مذکورہ فتاویٰ کو اسلامی تعلیمات اور قرآن وسنت کی تعلیمات کے صریح خلاف قراردیا اور کہا کہ روزے کا تعلق صرف بندے اور اس کے رب کے درمیان ہے۔ اس لیےیہ ایسی عبادت ہے جس میں ریا کاری نہیں ہوسکتی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں