.

عراق کا امریکا،ایران کشیدگی کے خاتمے کے لیے تہران اور واشنگٹن میں وفود بھیجنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے تہران اور واشنگٹن میں وفود بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ کوئی بھی عراقی گروپ جنگ نہیں چاہتا ہے۔انھوں نے کہاکہ ایرانی اور امریکی حکام نے عراق کو مطلع کیا ہے، وہ جنگ لڑنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتے ہیں۔

ان کے اس بیان سے دو روز قبل ہی دارالحکومت بغداد کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے گرین زون میں امریکی سفارت خانے کے نزدیک ایک راکٹ گرا تھا۔کسی گروپ نے اس راکٹ حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔امریکی حکومت کے ذرائع نے اس شُبے کا اظہار کیا تھا کہ ایران کی اتحادی شیعہ ملیشیاؤں کا اس راکٹ حملے میں ہاتھ کارفرما ہوسکتا ہے۔ایران نے اس راکٹ حملے میں ملوث ہونے سے متعلق الزامات کو مسترد کردیا تھا۔

وزیراعظم عادل عبدالمہدی کا کہنا تھا کہ ’’ عراق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدہ صورت حال کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کردار ادا کررہا ہے لیکن یہ ثالثی نہیں ہے‘‘۔ انھوں نے بتایا کہ وہ بدھ کو کویت جارہے ہیں جہاں وہ علاقائی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر امریکا اور ایران میں کشیدگی میں اضافے کی صورت میں اہم تجارتی آبی گذرگاہ آبنائے ہُرمز بند کردی جاتی ہے تو عراق اس صورت میں تیل کی برآمدات کے لیے متبادل ذرائع پر بھی غور کررہا ہے۔اس سلسلے میں عراق کے خود مختار علاقے کردستان اور ترکی سے تیل برآمدات کے لیے متبادل روٹ کے طور پر بات چیت کی جاسکتی ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان اس وقت ایک دوسرے کے خلاف تندوتیز بیانات کا سلسلہ جاری ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوموار کو ایک بیان میں ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے مشرقِ اوسط میں امریکی مفادات پر حملہ کیا تواس کو طاقت سے جواب دیا جائے گا۔

امریکا نے گذشتہ بدھ کو عراق سے اپنے سفارتی عملہ میں شامل تمام’’ غیرہنگامی ملازمین‘‘ کو واپس بلا لیا تھا۔محکمہ خارجہ نے امریکی شہریوں کو یہ بھی ہدایت کی تھی کہ وہ عراق کے سفر سے گریز کریں کیونکہ وہاں انھیں دہشت گرد ی، اغوا اور مسلح تنازع کا سامنا ہوسکتا ہے۔