.

بحرین کے خلاف ایرانی جارحیت کا تسلسل .... 1968 سے ابتک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سلطنت آف اومان اور قطر کے علاوہ کوئی بھی خلیجی ریاست ایران کی بلواسطہ یا بلاواسطہ مداخلت سے محفوظ نہیں رہ سکی۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت سمیت تمام ہی ریاستوں میں ایران کی مداخلت کارفرما رہی۔

بحرین کے خلاف ایرانی چڑھائی 1968 میں برطانوی انخلاء کے وقت زوروں پر تھی کیونکہ ایران، بحرین کو اپنے ساتھ ضم کرنا چاہتا تھا۔ 1981ایرانی تعاون سے بحرین میں مسلح بغاوت کی کوشش ناکامی سے دوچار ہوئی۔

معاملات یہی ختم نہ ہوئے بلکہ خلیج کے اس چھوٹے سے جزیرے میں 1996 کو حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں ملوث حزب اللہ نامی خفیہ تنظیم کا نیٹ ورک بے نقاب ہوا جبکہ 2011 ایرانی نیٹ ورک سے تصادم میں بحرین کے 19 سیکیورٹی اہلکار کام آئے۔ بحرین میں 2013 کے دوران دھماکا خیز مواد بنانے کا ڈپو قبضے میں لے لیا گیا جسے ایران نواز خفیہ سیل چلاتا تھا۔ دو ہزار سولہ میں ایران نواز حزب اللہ البحرینی کے بانیوں کو کڑی سزائیں سنائیں گئیں۔

سعودی فرمانروا کی دعوت پر بلائے گئے خلیجی اور عرب سربراہی اجلاس کے ایجنڈے میں اہم آئیٹم عرب خطے میں ایرانی دھمکیاں ہیں۔

اس بات کا امکان ہے کہ ایرانی دھمکیوں پر #مکہ_سمٹ میں تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد انہیں روکنے کے طریقوں پر غور کیا جائے بالخصوص اماراتی سمندری حدود میں فجیرہ کے قریب دو سعودی آئل ٹینکروں اور سعودی عرب کے آئل پمپنگ اسٹیشنز پر حملوں کے تناظر میں اس دھمکیوں پر گفتگو کا امکان بڑھ گیا ہے۔ الزام ہے کہ ان حملوں کو ایرانی ایجنٹوں نے سپاہ پاسداران انقلاب کے حکم پر عملی جامہ پہنایا ہے۔