جس امن پروگرام پر فلسطینی متفق ہوں اسےعرب ممالک بھی قبول کریں گے: الجبیر
سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر نےکہا ہے کہ جس امن فارمولے کو فلسطینی قوم قبول کرے گی اس پرعرب ممالک بھی اتفاق کریںگے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے معاشی مسائل کےحل کی کوششوں کےساتھ ساتھ فلسطینیوں کےدیرینہ سیاسی حقوق کے حل کے لیے بھی موثر انداز میںکوشش کی جانی چاہیے تاکہ فلسطینیوں اور اسرائیل کےدرمیان جاری تنازع کو حقیقی معنوںمیں ختم کیا جا سکے۔
فرانسیسی ٹی وی چینل 24 کو دیئے گئے انٹرویو میں عادل الجبیر نے مشرق وسطیمیں امن کے لیے امریکا کے اقتصادی منصوبے پر اپنا موقف بیان کیا۔
انہوںنے کہا کہ ہر وہ تجویز جس سے فلسطینیوں کے حالات کی بہتری کی راہ ہموار ہو اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔ یہاں میں یہ کہوںگا کہ فلسطینیوں کےسیاسی حقوق کا حل حد درجہ اہم اور ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی قوم اپنے حقوق اور مستقبل کےحوالے سے فیصلہ کرنےکی مجاز ہے۔ جس تجویز سےفلسطینیوں کو اتفاق ہو عرب ممالک بھی اسے قبول کرلیں گے۔
عادل الجبیر نے مزید کہا کہ سعودی عرب سنہ 1967ء کے عرب علاقوں پر مشتمل فلسطینی ریاست کے قیام اور مشرقی بیت المقدس کو فلسطینی مملکت کا دارالحکومت بنائے جانے کے مطالبے کی حمایت جاری رکھے گا۔