.

شام:الرقہ میں اجتماعی قبروں سے 200 افراد کی لاشیں‌ برآمد

مقتولین میں داعش کے ہاں یرغمال بنائے گئے افراد بھی شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی شہرالرقہ میں نئی اجتماعی قبروں کا انکشاف ہوا ہے جس میں سے اب تک 200 فراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

الرقہ میں اجتماعی قبروں کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ کمیٹی کے عہدیداریاسرالخمیس نے بتایا کہ اجتماعی قبروں سے 200 افراد کی باقیات ملی ہیں۔ ان میں سے بعض گڑھوں میں پانچ پانچ افراد کی لاشیں دفن کی گئی تھیں۔ اجتماعی قبروں سے نکالی جانے والی لاشوں میں سے بعض نے نارنجی رنگ کی جیکٹیں‌ پہن رکھی ہیں۔ یہ لباس شدت پسند تنظیم'داعش' اپنے ہاں قید کیے گئے افراد کو پہننے پرمجبورکرتی ہے۔

اُدھر شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پرنظر رکھنے والی سیرین آبزرویٹری فارہیومن رائٹس نے الرقہ سے ملنے والی اجتماعی قبر سے 200 لاشوں کی تصدیق کی ہے۔

انسانی حقوق کے عہدیدار یاسر الخمیس نے بتایا کہ بیشتر افراد کو سرمیں گولیاں مارکرقتل کیا گیا اس کے بعد انہیں ان گڑھوں میں دفن کردیا گیا تھا۔ بہت سی لاشوں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ یہ لاشیں دو سال سے زیادہ پرانی معلوم ہوتی ہیں۔

تحقیقاتی ٹیم نے بتایا کہ انہیں اجتماعی قبرسے تین خواتین کی لاشیں بھی ملی ہیں۔ لگتا ہے کہ انہیں سنگ سار کیا گیا کیونکہ ان کے جسم کی ہڈیاں اور کھوپڑیاں ٹوٹی ہوئی ہیں۔

خیال رہے کہ الرقہ شہر سنہ 2014ء کے بعد شدت پسند تنظیم 'داعش' کا پایہ تخت اور شام میں تنظیم کا انتہائی مضبوط گڑھ رہا ہے۔ اس علاقے میں داعش کی شکست کے بعد اجتماعی قبروں کی چھان بین کے لیے ایک ٹیم تشکیل دکی گئی تھی۔

رواں سال الرقہ شہرمیں ایک ایسی اجتماعی قبر بھی ملی ہے جس میں 3500 افراد کی لاشیں دفن کی گئی تھیں۔ یہ الرقہ گورنری سے ملنے والی اب تک کی سب سے بڑی اجتماعی قبربتائی جاتی ہے۔