.

حزب اللہ قیادت پرامریکی پابندیاں دوطرفہ تعلقات کا نیا موڑ ہے: الحریری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے وزیراعظم سعد الحریری کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے دو ارکان پارلیمنٹ پر امریکی پابندیاں لبنان کے لیے 'نیا امریکی تحفہ' اور دوطرفہ تعلقات کے باب میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے، مگر ان پابندیوں سے لبنانی پارلیمان کی کارروائی اور حکومت پر کوئی اثر نہیں‌ پڑے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اپنے ایک بیان میں الحریری نے کہا کہ امریکا کی طرف سے حزب اللہ کے منتخب ارکان پارلیمنٹ پر پابندیاں ایک نئی پیش رفت ہے اور ہم امریکی فیصلے سے مناسب طریقے سے نمٹیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے زیادہ اہم بنکنگ سیکٹر کو تحفظ فراہم کرنا اور لبنانی معیشت کی بہتری ہے۔ ہم ان شاء اللہ جلد ہی اس بحران سے نکل جائیں‌ گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں امریکی پابندیوں‌ کے معاملے کو زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرنا چاہیے۔

لبنان کی سرکاری نیوز ایجنسی نے بدھ کو ایک رپورٹ میں‌ بتایا تھا کہ پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے حزب اللہ ارکان پرامریکی پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں براہ راست لبنانی پارلیمنٹ اور جمہوریت پر حملہ قرار دیا۔

نیوز ایجنسی کے مطابق نبیہ بری نے کہا کہ لبنانی پارلیمنٹ کے منتخب ارکان کوبلیک لسٹ کرکے امریکا نے لبنانی پارلیمانی عمل اور پورے لبنان پرحملے کی کوشش کی ہے۔ پارلیمنٹ یہ سوال پوچھتی ہے کہ کیا امریکی جمہورت دنیا کے دوسرے ملکوں کے جمہوری عمل پر پابندیاں نافذ کر رہی ہے؟۔

خیال رہے کہ دو روز پیشر امریکی وزارت خزانہ نے حزب اللہ کے دو ارکان پارلیمنٹ سمیت تین اہم ارکان کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے ان کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ حزب اللہ کے جنرل سیکرٹری حسن نصراللہ نے اس اقدام کو لبنانی قوم کی تضحیک اور توہین قرار دیا ہے۔