.

’’ایران کے میزائل تجربات دفاع کے لیے ہیں، کسی ملک کے خلاف نہیں‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے میزائل تجربات دفاعی ضروریات کے لیے ہیں اور یہ کسی ملک کے خلاف نہیں۔ اس کو اپنے میزائلوں کے تجربات کے لیے کسی طاقت سے اجازت طلب کرنے کی ضرورت نہیں۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نے ہفتے کے روز ایک فوجی کے ذریعے کے حوالے سے یہ بات کہی ہے۔

امریکا کے ایک دفاعی عہدہ دار نے جمعرات کو یہ اطلاع دی تھی کہ ایران نے درمیانے درجے تک مار کرنے والے ایک بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے اور یہ قریباً ایک ہزار کلومیٹر تک مار کرسکتا ہے لیکن اس تجربے سے خطے میں جہاز رانی یا وہاں موجود کسی امریکی اہلکار کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا ہے۔

فارس کے مطابق ’’مسلح افواج کے ایک باخبر ذریعے کا کہنا ہے کہ ایران کے میزائل تجربات فطری اور دفاعی ضروریات کے لیے ہیں۔ میزائل صلاحیت کسی ملک کے خلاف نہیں ہے اور اس کا واحد مقصد کسی ممکنہ جارحیت کا جواب دینا ہے۔ ایران کو اپنے دفاع کے لیے کسی بھی طاقت سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔