.

القاعدہ سربراہ ایمن الظواہری خطرناک مرض میں مبتلا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ چند روز کے دوران عالمی میڈیا میں اس طرح کی معلومات گردش میں آئی ہیں کہ القاعدہ تنظیم کے سربراہ ایمن الظواہری ایک خطرناک بیماری میں مبتلا ہیں جس کے نتیجے میں ان کی صحت بڑی حد تک بگڑ چکی ہے۔

مغربی میڈیا نے انسداد دہشت گردی کی عالمی کوششوں میں شریک ایک سینئر بین الاقوامی ذمے دار کے حوالے سے بتایا ہے کہ الظواہری کو دل کے حوالے سے پیچیدہ مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ معلومات واشنگٹن اور امریکی اخبارات کی جانب سے اس اعلان کے چند روز بعد سامنے آئی ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ القاعدہ تنظیم کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کا بیٹا حمزہ بن لادن امریکی انٹیلی جنس کی ایک کارروائی میں ہلاک ہو گیا ہے۔

الظواہری کی بیماری اور حمزہ بن لادن کی موت کے بعد القاعدہ کی باگ ڈور کون سنبھالے گے ؟ اس پر روشنی ڈالنے کے لیے العربیہ ڈاٹ نیٹ نے مذہبی سیاسی تنظیموں کے امور کے محقق احمد عطا سے بات چیت کی۔ احمد کے مطابق زیر گردش رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ الظواہری جگر کے سرطان میں مبتلا ہیں اور مرض اس مرحلے تک آ چکا ہے کہ اب جگر کی تبدیلی کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ دہشت گردی کی عالمی فہرست میں مطلوب شخصیت ہونے کے سبب الظواہری کو دنیا کے کسی بھی ہسپتال میں کس طرح منتقل کیا جا سکتا ہے ؟

احمد نے باور کرایا کہ ایمن الظواہری نے اپنے جاں نشین کی شناخت کا تعین کر دیا ہے۔ انہوں نے القاعدہ تنظیم کی مجلس شوری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ابو محمد المصری کی بیعت کر لے۔ افریقا کی سطح پر القاعدہ کے دھڑوں کا انتظام چلانے والے ابو محمد المصری کا پورا نام عبد الله احمد عبد الله ہے۔ وہ اسامہ بن لادن کے مقرب ترین افراد میں سے ہے۔ وہ حمزہ بن لادن کا سسر ہونے کے سبب اسامہ کا سمدھی بھی ہے۔

ابو محمد المصری کی تاریخ پیدائش 6 جون 1963 ہے۔ وہ مصر کے ایک فٹ بال کلب "غزل المحلہ" کا کھلاڑی بھی رہا۔ سال 1998 میں تنزانیہ اور کینیا میں امریکی سفارت خانوں پر دھماکوں کے حوالے سے المصری امریکا کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہے۔

امریکی ایف بی آئی نے المصری کو القاعدہ کے 22 مطلوب ترین ارکان کی فہرست میں رکھا ہوا ہے۔ اس کی گرفتاری میں مددگار معلومات کی فراہمی پر 1 کروڑ ڈالر انعام مقرر کیا گیا ہے۔

دہشت گرد جماعتوں کے امور کے محقق عمرو فاروق نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ الظواہری کے ممکنہ جاں نشینوں کے حوالے سے دستاویزات اِفشا ہوئی ہیں۔ ان میں ابو الخیر المصری کا نام سرفہرست ہے۔ وہ فروری 2017 میں ایک کارروائی میں ہلاک ہو گیا۔

عمرو فاروق کے مطابق ابو الخير المصری" القاعدہ تنظیم کے بانی اسامہ بن لادن کا سمدھی تھا۔ اس کا اصل نام عبدالله محمد رجب عبدالرحمن ہے۔ وہ 1957 میں مصر کے مشرقی صوبے میں پیدا ہوا۔ وہ "الجهاد المصری" تنظیم کی مجلس شوری کا رکن رہا۔ 2005 میں ابو الخیر کا نام دہشت گردی سے متعلق امریکی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔

جاں نشینوں کی فہرست میں دوسرا نمبر ابو محمد المصری کا ہے جو "ابو محمد الزيات" کے نام سے مشہور ہے۔ وہ اس وقت الظواہری کا دست راس اور القاعدہ کا دوسرا اہم ترین شخص شمار ہوتا ہے۔ فہرست میں تیسرا نام مصر سے تعلق رکھنے والے "سيف العدل" کا ہے جب کہ چوتھے نمبر پر ناصر الوحيشی یا "ابو بصير" ہے۔ الوحیشی 12 جون 2015 کو یمن کے صوبے حضرموت میں ایک ڈرون طیارے کے حملے کا نشانہ بنا۔

فاروق نے واضح کیا کہ القاعدہ تنظیم کی قیادت کی دوڑ میں اس وقت دو شخصیات ہیں۔ پہلی شخصیت عبد الله احمد عبد الله عُرف "ابو محمد المصری" اور دوسری شخصیت محمد صلاح الدين زيدان عُرف "سيف العدل" ہے۔

سیف العدل 1960 کی دہائی میں مصر کے صوبے المنوفیہ میں پیدا ہوا۔ اسے 1987 میں سابق مصری وزیر داخلہ حسن ابو پاشا کے قتل میں ملوث ہونے کے سبب گرفتار کر لیا گیا تھا۔ تاہم ناکافی شواہد کی بنا پر سیف العدل کو رہا کر دیا گیا۔ وہ پہلے سوڈان فرار ہوا اور اس کے بعد 1989 میں افغانستان چلا گیا۔ وہاں اس نے القاعدہ تنظیم میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔

سیف العدل نے عسکریت پسندی کے میدان میں بہت سے امور اور تجربات کی بنیاد رکھی جن سے القاعدہ تنظیم اور دیگر مسلح جہادی تنظیموں کے ارکان نے بہت کچھ سیکھا۔ ان امور میں سیکورٹی چھاپے، اغوا اور قتل کی کارروائیوں پر عمل درامد کے طریقے، کڑی نگرانی، عسکری اور انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے طریقے اور دیگر صلاحیتیں شامل ہیں۔ ان تمام امور نے القاعدہ تنظیم کی قوت کو مضبوط بنا دیا۔

1990 کی دہائی کے وسط میں سیف العدل نے القاعدہ تنظیم کی سیکورٹی کمیٹی کی سربراہی سنبھالی۔ اس سے قبل 1993 میں اس نے صومالیہ کا سفر کیا تا کہ مسلح افراد کی تربیت کے لیے کیمپوں کا قیام عمل میں آ سکے اور وہاں موجود امن فورسز بالخصوص امریکیوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔ واشنگٹن کی جانب سے یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ 1993 میں موگادیشو میں 18 امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے والے مسلح ارکان کو "سيف العدل" نے تربیت دی تھی۔

امریکا نے سیف العدل کی گرفتاری میں مدد گار معلومات فراہم کرنے پر 50 لاکھ ڈالر کی انعامی رقم مقرر کر رکھی ہے۔ اس کا نام امریکی ایف بی آئی کی دہشت گردوں سے متعلق فہرست میں بھی شامل ہے۔

سیف العدل نے مصر سے تعلق رکھنے والے شیخ مصطفی حامد الشہیر عُرف "ابو الوليد المصری" کی بیٹی سے شادی کی۔ مسلح جہادی تنظیمیں ابو الولید کو افغانستان میں عرب مجاہدین کا شیخ شمار کرتی ہیں۔