.

ایران کو مزید ’پارسا افراد‘ کے لیے آبادی میں اضافے کی ضرورت ہے: خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے رہبراعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملکی آبادی میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ مزید پارسا لوگ سامنے آسکیں۔

ایرانی سپریم لیڈر کی ویب سائٹ کے مطابق علی خامنہ ای نے نوبیاہتا جوڑوں کے ایک گروپ سے ملاقات میں یہ بات کہی ہے۔ انھوں نے ان نوجوانوں سے گفتگو کرتے ہوئے آبادی میں اضافے کی اہمیت اجاگر کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ایک قابلِ لحاظ آبادی کے حجم کی صورت ہی میں ترقی اور اعلیٰ مقام حاصل کیا جاسکتا ہے۔

انھوں نے کہا: ’’جب آبادی زیادہ ہوگی تو پارسا لوگوں اور اس میں قابل افراد کی تعداد بھی زیادہ ہوگی۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ امریکا ایسے بعض مغربی ممالک میں ایک خاندان کے پندرہ سے بیس تک بچے ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ آبادی میں اضافے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور کوئی بھی کسی کو مورد الزام نہیں ٹھہراتا ہے لیکن جب ہماری باری آتی ہے تو اس کے بالکل برعکس طرزعمل کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے‘‘۔

علی خامنہ ای نے اپنی گفتگو میں چین اور بھارت کی مثالیں دی ہیں جنھیں زیادہ آبادی سے زیادہ فائدہ پہنچا ہے اور اس کے فوائد نے نقصانات کو مات دے دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایرانی عوام اور حکومت کے اعلیٰ عہدے داروں کو ان کے موقف کی تائید و وکالت کرنی چاہیے۔

یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایران کی آبادی میں اضافے کے بارے میں گفتگو کی ہے۔ وہ حالیہ برسوں کے دوران میں متعدد مواقع پر ایران کی آبادی میں اضافے کی ضرورت اوراہمیت پر زور دے چکے ہیں اور ملک کی آبادی پر کنٹرول کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔2013 ء میں جب ایران کی آبادی سات کروڑ 65 لاکھ تھی تو انھوں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ یہ کم سے کم پندرہ کروڑ ہونا چاہیے تھی۔

عالمی بنک کی 2019ء کی عالمی اقتصادی رپورٹ کے مطابق اس سال ایران کی معاشی شرح نمو منفی رہے گی اور یہ 4.5 منفی فی صد ہوگی۔ یوں یہ صرف نکاراگوا سے آگے ہے۔2018 ء میں ایران کی فی کس مجموعی قومی پیداوار 5,037 ڈالر تھی اور یہ عالمی بنک کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق عالمی اوسط سے نصف تھی۔ ایران میں بے روزگاری کی شرح 12.10 تھی جبکہ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 27 فی صد تھی۔