حوثی ملیشیا یمن کی نئی نسل کو "پوائنٹ آف نو ریٹرن" پر پہنچا رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایرانی پاسداران انقلاب کی طرح یمن میں حوثی ملیشیا نے بھی اپنے سمر کیمپ کے مراکز سے تقریبا 2.5 لاکھ یمنی بچوں اور نوجوانوں کے فارغ التحصیل ہونے پر خوشیاں منانے کا اہتمام کیا ہے۔ حوثیوں کی جانب سے ان سمر کیمپوں کا قیام اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں اپنے ایجنڈوں اور فرقہ وارانہ منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے عمل میں لایا گیا۔

حوثی ملیشیا نے سمر کیمپ سے فارغ ہونے والے والے طلبہ میں سر پر لگانے والی سبز رنگ کی پٹیاں تقسیم کیں جن پر باغی ملیشیا کا نعرہ تحریر تھا۔

حوثیوں کی جانب سے جاری سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سمر کیمپ کے مراکز میں داخلہ لینے والے طلبہ و طالبات کی مجموعی تعداد 251234 رہی۔ یہ طلبہ و طالبات حوثیوں کے زیر کنٹرول صوبوں میں 3672 مراکز میں تقسیم تھے۔

حوثیوں نے ان طلبہ کو عمر کے لحاظ سے 5 لیول میں بانٹ دیا تھا۔ اس میں ایلیمینٹری لیول میں 95 ہزار سے زیادہ طالب تھے۔ اس کے علاوہ لیول 1 میں 87 ہزار، لیول 2 میں 47 ہزار، لیول 3 میں 18 زہار اور لیول 4 میں 1271 طلبہ و طالبات شریک ہوئے۔

حوثی ملیشیا نے بچوں کے ذہنوں میں اپنی جماعت سے متعلق نظریات کو بٹھا دیا تا کہ وہ آگے چل کر عسکری تربیت کے کیمپوں میں داخلہ لے سکیں اور پھر انہیں لڑائی کے محاذوں پر بھیجا جا سکے۔

سمر کیمپ کے مراکز میں طلبہ کو حوثی قیادت اور ان کے ہمنوا اساتذہ کی جانب سے خصوصی تربیت ملی۔ اس دوران عسکری مشقیں بھی شامل رہیں۔ پروگرام کے ایک تربیت کار استاد کے مطابق نوجوانوں کی ذہنی تربیت کے بعد ان کو فوری طور پر عسکری تربیت کا کورس کرایا گیا۔ اس میں ہتھیاروں کے استعمال کی تربیت اور لڑائی کے تمام فنون شامل تھے۔ اس کا مقصد لڑائی کے محاذوں پر شرکت سے پہلے نوجوانوں کو تیار کرنا ہے۔

مبصرین کے مطابق سمر کیمپ میں حوثیوں کے نصاب کے مضامین کا مقصد یمن کی نئی نسل کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ، ان کے ذہنوں میں فرقہ واریت کا زہر بھر دینا اور عراق میں ننھے داعشوں کی طرز پر دہشت گرد شدت پسند جنگجو تیار کرنا ہے۔

حوثی ملیشیا ان سمر کیمپ مراکز کے ذریعے جنگجوؤں کی ایک ایسی نسل تیار کرنا چاہتی ہے جو باغیوں کی صفوں میں افرادی قوت کی کمی کو پورا کر سکے۔ اسی وجہ سے حوثیوں کی اعلی سطح کی قیادت کی جانب سے اس پر خصوصی توجہ دی گئی۔ باغیوں کے سرغنے عبدالملک الحوثی نے سمر کیمپ کے افتتاح کے چند روز بعد مراکز کے ناظمین سے خطاب کیا اور پھر پروگرام کے اختتام پر بھی اسی طرح کیا۔

یمنی تجزیہ کاروں اور کارکنان نے حوثیوں کے ہاتھوں مستقبل کی نسل کی "بھرتی اور برین واشنگ" پر اپنے گہرے اندیشوں کا اظہار کیا ہے۔

یمن کی آئینی حکومت میں انسانی حقوق کے وزیر محمد عسکر نے سمر کیمپوں کو "حوثیوں کی جنگوں کا ایندھن" قرار دیا ہے۔ ان کا اشارہ حوثیوں کی جانب سے ان بچوں کو اپنے جنگجوؤں کی صفوں میں شامل کرنے کے لیے بھرتی کی جانب تھا۔ وزیر نے مزید کہا کہ "یمن کے مستقبل کو سبوتاژ کرنے کا ایک منظم عمل" جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں