.

داعش نے شام میں بین الاقوامی اتحاد اور کردوں پر حملے شدید تر کرنے کی دھمکی دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش تنظیم نے شام میں امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد اور اس کے حلیف کردوں پر حملوں میں اضافہ کر دینے کی دھمکی دی ہے۔ یہ دھمکی اتوار کے روز ٹیلیگرام پر تنظیم کے ایک چینل پر پوسٹ کی گئی وڈیو میں سامنے آئی ہے۔ مارچ میں زمینی شکست کھانے کے بعد داعش تنظیم کی جانب سے یہ دوسری وڈیو ہے۔

حالیہ چند ماہ میں داعش نے شام کے شمال اور شمال مشرق میں کرد فورسز کو سلسلہ وار حملوں کا نشانہ بنایا۔ رواں سال 23 مارچ کو داعش کی قائم کردہ "خلافت" کے سقوط کا اعلان کر دیا گیا۔ اس خلافت کا اعلان تنظیم نے 2014 میں کیا تھا۔ سقوط کا اعلان تنظیم کو شام کے مشرق میں اس کے آخری گڑھ سے نکالے جانے کے بعد کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے ایک بڑا حملہ کیا تھا۔ مذکورہ فورسز میں ایک بڑی تعداد کرد جنگجوؤں کی ہے اور انہیں بین الاقوامی اتحاد کی سپورٹ حاصل ہے۔

تاہم شام کے متعدد علاقوں میں پھیلے جنگجوؤں اور "غیر فعال گروپوں" کی صورت میں داعش کا وجود اب بھی موجود ہے۔ کچھ عرصہ قبل امریکی وزارت دفاع کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ داعش تنظیم شام میں "پھر سے نمودار" ہو رہی ہے۔

اتوار کے روز جاری کی جانے والی داعش کی وڈیو میں تنظیم نے الرقہ ، دمشق، ادلب اور حلب میں اپنے کارکنان اور حامیوں سے مخاطب ہو کر کہا ہے کہ "ہمارے اور ان کے درمیان معرکہ بھڑک اٹھا ہے اور اس کے شعلے شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں"۔

داعش نے بین الاقوامی اتحاد ے ممالک پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے تنظیم کے حریفوں اور مخاصمین کو "پُھسلایا" جن میں کُرد بھی شامل ہیں۔ تنظیم نے مزید کہا کہ "انہوں نے کردوں کو چکی کی طرح پیس دینے والی جنگ میں جھونک ڈالا جس میں ان کا کچھ باقی نہ رہے گا"۔

داعش کی وڈیو کا دورانیہ تقریبا 10 منٹ ہے۔ اس میں ایسے لوگوں کی گردنیں کاٹتے ہوئے اور موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے دکھایا گیا ہے جن کو شدت پسندوں کے ہاتھوں اغوا ہونے ولاے کرد جنگجوؤں کے طور پر پیش کیا گیا۔ وڈیو میں ایسی رپورٹوں اور شواہد کے کلپ شامل کیے گئے ہیں جن سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ داعش تنظیم شکست دے دوچار نہیں ہوئی اور اب بھی شام میں موجود ہے۔

داعش تنظیم کی جانب سے آخری وڈیو 29 اپریل کو نشر کی گئی تھی۔ وڈیو میں تنظیم کا سربراہ ابو بکر البغدادی پانچ برس بعد پہلی مرتبہ نمودار ہوا تھا۔ البغدادی نے اپنی بیعت کرنے والوں سے مطالبہ کیا کہ وہ لڑائی جاری رکھیں۔

تنظیم کی خلافت کے خاتمے کے اعلان کے تقریبا ایک ماہ بعد سامنے آنے والی اس وڈیو میں اس وقت البغدادی نے دھمکی دی تھی کہ تنظیم کے جنگجو مغرب کے ساتھ ایک طویل معرکے کے ذریعے اپنا انتقام لیں گے۔