.

شامی حکومت کی حزبِ اختلاف کے زیر قبضہ ادلب کے باہر شہریوں کے انخلا کے لیے راہ داری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حکومت نے حزبِ اختلاف کے زیر قبضہ شمال مغربی صوبے ادلب سے شہریوں کے انخلا کے لیے ایک راہ داری کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے جمعرات کو وزارت خارجہ کے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ’’شامی حکومت صوبہ حماہ کے شمال میں واقع علاقے سوران میں انسانی راہ داری کھولنے کا اعلان کرتی ہے۔ اس راہ داری کو حماہ کے شمال سے ادلب کے جنوب میں واقع دہشت گردوں کے زیر قبضہ علاقے میں موجود شہریوں کے انخلا کے لیے استعمال کیا جائے گا۔‘‘

شام کے سرکاری میڈیا کی اس اطلاع سے ایک روز قبل ہی اسدی فورسز نے صوبہ دلب کے اہم قصبے خان شیخون پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور وہاں انتہا پسندوں اور ان کی اتحادی فورسز کو شکست سے دوچار کیا تھا۔

شامی حکومت نے اس سے قبل بھی حزب اختلاف کے مسلح گروپوں کے زیر قبضہ علاقوں سے شہریوں کے انخلا کے لیے اسی طرح کی حکمتِ عملی اپنائی تھی اور وہاں محصور علاقوں سے شہریوں کے انخلا کے لیے راہداریاں کھولی تھیں۔ پھر ان علاقوں کو بہ زور طاقت یا مذاکرات کے ذریعے مفتوح بنا لیا تھا اور وہاں باغی جنگجو گروپوں کو شکست سے دوچار کیا تھا یا انھیں محاصرے کی کارروائیوں کے ذریعے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا تھا۔

اب ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع ادلب ہی واحد صوبہ رہ گیا ہے جہاں اس سال جنوری سے ہیئت تحریر الشام اوراس کے اتحادی دوسرے باغی جنگجو گروپوں کا کنٹرول ہے۔ ملک کے باقی حصوں پر بشارالاسد کی حکومت کی عمل داری قائم ہوچکی ہے اور ان کی وفادار فوج نے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر اپنے اتحادی روس اور ایران کی فوج اور مسلح ملیشیاؤں کی مدد سے دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے مطابق بدھ کو شامی فورسز کی پیش قدمی کے بعد ادلب کے جنوب سے پڑوس میں واقع صوبہ حماہ تک کا علاقہ اب باغیوں کے زیر قبضہ دوسرے علاقوں سے کٹ کر رہ گیا ہے۔

واضح رہے کہ شامی حکومت حزب اختلاف کے تمام گروپوں کو دہشت گرد قرار دیتی چلی آرہی ہے۔ ہئیت تحریر الشام اور دوسرے باغی گروپوں کے زیر قبضہ ادلب اور اس سے ملحقہ علاقوں میں قریباً تیس لاکھ افراد رہ رہے ہیں۔ ان میں مقامی آبادی کے علاوہ ماضی میں دوسرے علاقوں سے لا کر آباد کیے گئے افراد بھی شامل ہیں۔

اس علاقے میں بڑی فوجی کارروائی سے بچنے کے لیے گذشتہ سال ستمبر میں بشارالاسد کے پشتیبان روس اور باغی گروپوں کے حامی ترکی کے درمیان ایک سمجھوتا طے پایا تھا جس کے تحت ادلب میں بفر زون کے قیام پر اتفاق کیا گیا تھا مگر شامی حکومت اور روس کے لڑاکا طیاروں نے اس سمجھوتے کا احترام کرنے کے بجائے اپریل سے ادلب پر تباہ کن بمباری شروع کر رکھی ہے جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے مطابق 890 شہری ہلاک ہوچکے ہیں اور چار لاکھ سے زیادہ بے گھر ہوگئے ہیں۔

خان شیخون میں شامی فورسز کے داخلے کے بعد شام اور ترکی کے درمیان ایک نئی کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ہے۔ ترکی نے نزدیک واقع قصبے مورک میں اپنے فوجی تعینات کررکھے ہیں اور وہ اب شامی فورسز کی جنگی کامیابی کے بعد کٹ کر رہ گئے ہیں اور ایک طرح سے محصور ہو چکے ہیں۔