.

مشرق وسطی میں امریکا کے سب سے بڑے فوجی اڈے میں توسیع جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر نے اپنی سرزمین پر موجود امریکی فوجی اڈے "العدید" کو نہ صرف توسیع کی اجازت دی ہے بلکہ وہ اس کی فنڈنگ کرتے ہوئے 1.8 ارب ڈالر لاگت کے تعمیراتی کام کے انتظامی امور بھی چلا رہا ہے۔

امریکی ذمے داران محتاط الفاظ استعمال کرتے ہوئے اسے ترقیاتی کام کا نام دے رہے ہیں جب کہ قطری عہدے داران کا کہنا ہے کہ یہ توسیع ہے۔ اگرچہ مذکورہ اڈے پر مزید فورسز بھیجنے کے منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا تاہم اس اڈے میں 10 ہزار سے زیادہ فوجیوں کی گنجائش ہو سکتی ہے۔

خلیجی ممالک کے سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ قطر کی جانب سے العدید کے فضائی اڈے کی توسیع کے لیے انتھک کوششیں اور اس کے علاوہ امریکا سے اربوں ڈالر مالیت کے عسکری ساز و سامان کی خریداری، قدرتی گیس سے حاصل ملک کی خطیر دولت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی ایسے وقت میں حمایت حاصل کرنا ہے جب خطے میں امریکا کے دیگر حلیفوں کی جانب سے قطر کو تنہا کیا جا چکا ہے۔

قطر میں العدید کے فضائی اڈے سے واشنگٹن شام اور افغانستان جیسے تنازع کے علاقوں میں اپنی فورسز اور جنگوں کے انتظامی امور چلا رہا ہے۔ العدید کو مشرق وسطی میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ شمار کیا جاتا ہے۔

قطر اس فضائی اڈے کو ترقی دینے کے لیے خطیر رقم خرچ کر رہا ہے جس نے امریکی عسکری پوزیشن میں اس کو اہم ترین بنا دیا ہے۔

اس سلسلے میں فضائی نگرانی ونگ 379 کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل ڈینیل ایچ ٹولی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ العدید کے فضائی اڈے میں امریکی عسکری کارروائیاں اسی قدر "نہایت پیچیدہ" ہیں جیسا کہ عراق اور افغانستان کی جنگوں میں تاریک ترین عرصے کے دوران رہیں۔ یہاں اعلی ترین معیار کا مہنگا ترین عسکری ساز و سامان موجود ہے جس میں F-22 لڑاکا طیارے وار B-52 بم بار طیارے شامل ہیں۔

العدید کا فضائی اڈہ دارالحکومت دوحہ کے وسط میں کورنیش سے (گاڑی کے ذریعے) آدھے گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ یہ قطری صحرا کے سخت ماحول میں واقع ہے جہاں موسم گرما میں درجہ حرارت 130 ڈگری فارن ہائٹ تک جا پہنچتا ہے۔

امریکی مرکزی کمان نے 2003 میں سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس سے اپنی فرنٹ لائن کارروائیوں کو کم کر کے قطر منتقل کر دیا تھا۔