.

مصر کا مرسی پر ترک صدر کو متنازع بیان پر 'ترکی بہ ترکی' جواب

'انسانی حقوق کا درس دینے والا ترک صدر اپنے گریبان میں جھانکیں'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر نے سابق صدر محمد مرسی کی موت سے متعلق ترک صدر رجب طیب اردوآن کے تبصروں کا باضابطہ طور پر جواب دیتے ہوئے ترک صدر کا موقف مسترد کردیا ہے۔

مصری وزارت خارجہ نے ترک صدر کے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق صدر محمد مرسی کی موت سے متعلق الزامات کے کو بے بنیاد اور صریح جھوٹ قرار دیا۔ ترکی کے صدر نے نیویارک میں ایک تقریب سے خطاب میں الزام عاید کیا تھا کہ مصر کے سابق صدرمحمد مرسی کو جیل میں دانستہ طورپر قتل کیا گیا ہے۔ وہ جنرل اسمبلی میں بھی یہ معاملہ اٹھائیں گے۔مصری وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ترک صدر نے محمد مرسی سے متعلق جس نوعیت کا بیان دیا ہے اس سے انقرہ کی قاہرہ سے نفرت اور دشمنی کی بو آتی ہے۔

مصری وزارت خارجہ کے ترجمان احمد حفیظ نے ترک صدر کی طرف سے محمد مرسی کی موت سے متعلق اپنے دعوئوں کو برقرار رکھنے اور انہیں آگے بڑھانے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی کہ یہ ستم ظریفی ہے کہ یہ الزامات اردوان جیسے شخص کی طرف سے سامنے آئے ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ترک صدر خطے میں دہشت گردوں کی سرپرستی کرتے ہیں اور موجودہ ترک حکومت اپنی قوم پر ظلم اور ستم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

اردوآن کی بے وقوفی

ترجمان نے مزید کہا کہ ترک صدر کے مصر کے خلاف حالیہ بیانات ترکی میں حکومت کی خراب حالت سے توجہ ہٹانے کی ایک مایوس کن کوشش ہے۔ ترک کی حکمراں جماعت کو اندرون ملک، سیاسی محاذ اور عالمی سطح پر غیرمعمولی نقصان اور خسارے کا سامنا ہے اور انقرہ توجہ ہٹانے کے لیے مصر پرالزام تراشی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ بہت سے حقائق اردوآن کی گفتگو کے بے ہودہ ہونے کا ثبوت ہوسکتے ہیں۔ ایردوآن اور ان کی حکومت کے جرائم کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔

ان حقائق میں سب سے پہلے ترکی میں 75،000 سے زیادہ سیاسی کارکنوں اور فوجیوں کو حراست میں لینا ہے۔

ترک رجیم کا دوسرا جرم یہ ہے کہ اس کی جیلوں میں درجنوں افراد کو مشتبہ حالت میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ مریض قیدیوں کو طبی سہولیات سے محروم رکھنے کیے ساتھ دوران حراست سیاسی مخالفین کو بے دردی کے ساتھ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

ترک صدر نے اپنے اقتدار کی بقاء کے لیے ایک لاکھ تیس ہزار ملازمین سے ان کی ملازمت چھین کران کے بیوی بچوں کے منہ سے نوالہ سلب کیا ہے۔

تین ہزار سے زاید تعلیمی ادارے بند کرکے ہزاروں افراد کو بے روزگار کیا گیا۔

مصری وزارت خارجہ نے کہا کہ اردوآن کی حکومت نے سیکڑوں صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کو قید و بند میں ڈالا۔ متعدد بین الاقوامی ابلاغی اداروں کے مطابق ترکی صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے لئے دنیا کا سب سے بڑا قید خانہ بن گیا ہے۔

ملک میں جاری کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ہزاروں ترک شہری بیرون ملک فرار ہوگئے ہیں۔

ترک صدر کا بدنیتی پر مبنی طرز عمل

مصری وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ خطے میں دہشت گردی کی حمایت اور سرپرستی میں ترک صدر طیب ایردوآن کا مشکوک کردارسب کے سامنے ہے۔ ترک صدر کا بدنیتی پر مبنی طرز عمل کو متعدد طریقوں سےعیاں ہوتا ہے۔ یہ اس بات کاثبوت ہے ترکی میں دہشت گرد اخوان اور اس کے عناصر کو پناہ حاصل ہے۔ ترکی نے اخوان کو اپنے تخریبی خیالات کو فروغ دینے کے لے سیاسی مدد اور میڈیا پلیٹ فارم فراہم کیے گئے جو مصر اورپورے خطے میں بدامنی پھیلانے میں پیش پیش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترک صدر پرشام میں دہشت گردی کی سرپرستی جاری رکھنے کا بھی الزام عاید کیا اور کہا کہ شام کا تنازعہ ترکی کی بے جا مداخلت کی وجہ سے طول پکڑ گیا۔ ترکی جان بوجھ کر کردوں کو خاص طور پر قتل و غارت گری کا نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ اقدامات انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

مصری وزارت خارجہ کے ترجمان نےہا کہ ترکی لیبیا میں دہشت گرد اور انتہا پسند گروپوں اور مسلح ملیشیاؤں کو مدد فراہم کررہا ہے۔ لیبیا میں جنگ کے لیے عسکریت پسندون کو ہتھیاروں اور سازوسامان کی تمام سیاسی اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرکے ترکی یہ ثابت کررہا ہے کہ وہ خطے میں دہشت گردی کا سب سےبڑا سرپرست ہے۔