صنعاء : حوثی ملیشیا کی جانب سے وزارت تعلیم کے ملازمین پر زندگی تنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں باغی حوثی ملیشیا کی جانب سے ایک نیا فیصلہ جاری کیا گیا ہے۔ جاری کی گئی کی دستاویز کے ذریعے صنعاء میں وزارت تعلیم کے جنرل بیورو میں کام کرنے والے 211 سرکاری ملازمین کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق پیر کے روز اِفشا ہونے والی دستاویز میں باغی حوثیوں کی (بین الاقوامی سطح پر غیر تسلیم شدہ) حکومت میں وزارت تعلیم کے قانونی امور سے متعلق انتظامیہ نے وزارت تعلیم کے جنرل بیورو میں کام کرنے والے 211 افراد کی سروس ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سرکاری میمو میں کے مطابق مذکورہ ملازمین کی برطرفی کا فیصلہ ان کے کام کرنے کا سلسلہ منقطع کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ حوثی ملیشیا نے ان ملازمین کو اپنے ہمنوا افراد سے بدلنے کی روش کا سہارا لیا ہے۔

اس سے پہلے بھی حوثیوں کی جانب سے جاری فیصلوں میں اساتذہ اور تعلیم کے شعبے سے متعلق ملازمین کو کام کرنے سے روک دینے کے بعد ان کی جگہ ملیشیا نے اپنے ہمنوا اور منظور نظر افراد کو کام پر لگا دیا تھا۔

دوسری جانب حوثی ملیشیا کی طرف سے محکمہ تعلیم کے ملازمین کو کام سے علاحدہ کیے جانے پر ،،، انسانی حقوق کے یمنی حلقوں کی جانب سے سوشل میڈیا کے ذریعے شدید مذمت سامنے آئی ہے۔

یاد رہے کہ حالیہ چند برسوں میں حوثی ملیشیا کی جانب سے یمن میں تعلیم کے سیکٹر کو شدید نقصان پہنچا ہے جس نے انفرا اسٹرکچر کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اسی طرح حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں اکتوبر 2016 سے 2 لاکھ اساتذہ کی تنخواہیں روکے جانے کے بعد ان اساتذہ کو انتہائی مشکلات کا سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں