.

عراق میں امریکی سفارت خانے کی بغداد میں پرتشدد مظاہروں کے بعد امن کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بغداد میں امریکی سفارت خانے نے گذشتہ دو روز کے دوران میں پُرتشدد احتجاجی مظاہروں کے بعد عراق کے تمام فریقوں سے ضبط وتحمل کی اپیل کی ہے اور انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

امریکی سفارت خانے نے بدھ کو ٹویٹر پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’پُرامن مظاہرے کا حق تمام جمہوریتوں میں بنیادی حقوق میں سے ہے لیکن مظاہروں کے دوران میں کسی بھی فریق کی جانب سے تشدد کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘‘

عراق میں اربابِ اقتدار واختیار کی بدعنوانیوں ، بے روزگاری کی شرح میں اضافے اور شہری خدمات کے پست معیار کے خلاف منگل سے جاری احتجاجی مظاہروں کے بعد امریکی سفارت خانے کا یہ پہلا بیان ہے۔

عراقی سکیورٹی فورسز نے بغداد میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں دو روز میں پانچ افراد ہلاک اور کم سے کم تین سو زخمی ہوگئے ہیں۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے بھی پھینکے تھے،پانی توپ کا استعمال کیا تھا اور بعض مقامات پر سکیورٹی اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔