سرپرست کی شرط کے خاتمے پر 14 ہزار سعودی خواتین نے پاسپورٹس بنوا لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب میں پاسپورٹ کے جنرل ڈائریکٹوریٹ نے جمعرات کے روز ایک بیان میں بتایا کہ دارالحکومت الریاض میں خواتین کے پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں آسانی پیدا کرنے کے لیے خواتین پاسپورٹس سیکشن کا افتتاح کردیا گیا ہے۔

سعودی عرب میں پاسپورٹ ڈاریکٹوریٹ کے جنرل میجر جنرل سلیمان الیحییٰ نے کہا ہے کہ ریاض کے علاقے میں خواتین کے لیے پاسپورٹس سیکشن کا افتتاح سروسز کی تقسیم کے حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد شہریوں کو پاسپورٹس کے حصول میں زیادہ سے زیادہ آسانی اور سہولت مہیا کرنا ہے۔

ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ اگست میں جاری کردہ سفری اور شہری حیثیت کی دستاویزات میں ترمیم کے بعد "ابشر" الیکٹرانک نظام کے توسط سے 9 ہزار سعودی خواتین نے پاسپورٹ حاصل کیے ہیں۔ جب کہ پانچ ہزار خواتین نے ملک کے مختلف شہروں میں اپنے کاغذات اور دستاویزات کے ذریعے آزادنہ طورپر پاسپورٹس بنوائے ہیں۔ اس نئے قانون کے تحت خواتین کو اپنی مرضی سے ولی کی شرط کے بغیر پاسپورٹس حاصل کرنے اور بیرون ملک سفر کی اجازت دی گئی ہے۔

اس تناظر میں سعودی پاسپورٹ ہال برائے خواتین کی ڈائریکٹر نورا الاسمری نے کہا کہ اس کے مکمل ہونے کے بعد سے خواتین کو پاسپورٹ کے حصول اور اس کی تجدید کی نئہ سہولت فراہم کی گئیی ہے۔ پاسپورٹ ڈاریکٹوریٹ نے خواتین کو آن لائن پاسپورٹس کے بارے میں معلومات کے حصول کے لیے سروسز پورٹل بھی جاری کیا گیا ہے۔ جس کی مدد سے خواتین پاسپورٹس کے حصول، اس کی شکایات اور دیگر امور کے بارے میں حکام کے ساتھ رابطہ کرسکتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں