.

عراقی حکومت مظاہرین کے آئینی مطالبات تسلیم کرے: مائیک پومپیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے عراقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مظاہرین کے جائز مطالبات کو سُنے اور میڈیا اور اظہار رائے پر حالیہ دنوں میں عاید کردہ پابندیوں کو ختم کرے۔

ایک بیان میں پومپیو نے کہا کہ امریکا عراقی معاشرے کے مسائل حل کرنے کے لیے عراق کی طرف سے کی جانے والی کسی بھی سنجیدہ کاوش کا خیرمقدم کرتا ہے۔ انہوں نے تمام فریقین پر تشدد کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ کیا۔

امریکی وزیر خارجہ نے اکتوبر کے اوائل میں عراق میں ہونے والی تشدد سے متعلق تحقیقات کو 'ناکافی' قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا تھا کہ عراقی عوام انصاف کے مستحق ہیں اور ذمہ داروں کو جواب دہ ہونا چاہیے۔

اکتوبر کے آغاز سے ہی پومپیو نے عراقی حکومت سے مظاہرین کے مطالبات کا احترام کرنے اور زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

عراقی حکومت کی گذشتہ منگل کی ایک رپورٹ میں سیکیورٹی عہدیداروں کو مظاہرین کے قتل کی ذمہ دار قرار دیا تھا۔

انکوائری کمیشن نے نشاندہی کی کہ مظاہرین میں 70 فیصد زخمی ہونے والوں کے سر اور سینے زخمی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مظاہرین پر گولی چلانے کی کسی کو اجازت نہیں دی گئی اور نہ ہی اعلیٰ حکام کی جانب سے اس کی کوئی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جمعرات کے روزجاری ایک رپورٹ میں بتایا کہ عراقی سیکیورٹی فورسز کی طرف سے مظاہرین کے خلاف طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں مظاہرین کو خوفناک اور مہلک چوٹیں آئیں۔ کئی آنسوگیس شیل اور گولیاں مظاہرین کی کھوپڑیوں میں گھس گئیں۔

تنظیم نے عراقی حکام، انسداد فسادات پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز سے اس قسم کے مہلک بموں کا استعمال فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔