.

'آٹزم' کا فائن آرٹ کے ذریعے علاج ممکن ہے:سعودی ماہر نفسیات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ایک ماہر نفسیات نے دعویٰ کیا ہے کہ 'آٹزم' یا خود فکری نامی ایک نفسیاتی عارضے کا فائن آرٹ کے ذریعے علاج ممکن ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی نفسیات دان نے اپنی یہ تحقیق دنیا کے متعدد فورمز پر پیش کی ہے اور کہا ہے کہ 'آٹزم' سے متاثرہ افراد کو فائن آرٹ کے ذریعے تندرست کیا جاسکتا ہے۔

خیال رہے کہ 'آٹز' یا اپنے آپ میں گم رہنا ایک نفسیاتی عارضہ ہے جس میں مریض دنیا و ما فیھا سے الگ تھلگ اپنے ذہن میں خیالی پلائو پکاتا رہتا اور اپنے آپ میں گم رہتا ہے۔ اس عارضے کے شکار افراد کو اپنے گردو پیش میں ہونے والے زندگی کے ہنگاموں سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی اس کی توجہ کسی دوسری طرف جاتی ہے۔

سعودی ماہر نفسیات ڈاکٹر عبدالعزیز الدقیل نے بتایا کہ وہ 'آٹزم' کے شکار افراد کے علاج کے لیے 'فائن آرٹ'کو ایک اہم ذریعہ سمجھتے ہیں اور وہ اس حوالے سے دنیا کے مختلف فورمز پراس کے باتے میں بتا چکے ہیں۔

سعودی عرب کی طائف یونیورسٹی کی فیکلٹی آف ڈیزائنز اینڈ اپلائیڈ آرٹس کالج کے وائس ڈین الدقیل نے متعدد تحقیقات کے ذریعے 'آٹزم ڈس آرڈر' کے شکار لوگوں کے ساتھ فائن آرٹ تھراپی کے استعمال کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ آٹزم سے متاثرہ افراد کے بصری مواصلات اور معاشرتی طرز عمل مختلف خاکوں اور رنگوں کے ذریعے تیار کردہ فن پاروں کے ذریعے جوڑا جاسکتا ہے۔ انہوں نے یہ تجویزاسکندریہ یونیورسٹی کےزیراہتمام منعقدہ علاقائی سائنس کانفرنس میں پیش کی گیا۔ ان کا کہنا تھا فائن آرٹ تھراپی کے ذریعے آٹزم کے شکار لوگوں کو تندرست کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

معاشرتی رویوں اور بصری مواصلات کی نشونما

ڈاکٹر الدقیل نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ آٹزک ڈس آرڈر کے شکار افراد مواصلات اور باہمی میل کے جول کے جذبات کے فقدان کا شکار ہوتےہیں۔ ان میں جذباتی ، سماجی اور زبانی مواصلات بھی شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس شعبے میں بہت کم تحقیق کی جاتی ہے۔ اس لیے یہ سوال اہم ہےآٹزم سے متاثرہ افراد کی بحالی کے پروگرام میں مریض کے بصری مواصلات اور معاشرتی رویوں کو مربوط کرنے کی کوشش کی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اتنا آسان کام نہیں مگر آٹزم کے شکار افراد کے جذبات کی نشو نما کے لیے تواتر کے ساتھ فائن آرٹ کو استعمال کیا جائے تو قوی امید ہے کہ مریض آٹزم کے عارضے سے باہر نکل سکتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر الدقیل نے کہا کہ فائن آرٹ تعلیمی نظام کا اہم حصہ ہے اور اسے محض تفریح کی حد تک نہیں بلکہ زندگی کے دوسرے شعبوں میں اس کے فواید پربھی تحقیق کی جانی چاہیے۔