.

لبنانی وزیر کا خصوصی طیارہ 'ٹویٹر پر نئی جنگ' کا باعث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں 17 اکتوبر کے بعد عوام سڑکوں پرہیں جو کرپٹ اور قومی خزانے کی لوٹ مار کرنے والے عہدیداروں کے احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف سوشل میڈیا بالخصوص 'ٹویٹر' پر لبنانی وزیر خارجہ کا ایک طیارہ زیر بحث ہے۔

حال ہی میں قائم مقام وزیر خارجہ جبران باسیل اور ان کے ساتھی وزیر دفاع الیاس بو صعب کی ٹویٹر پرایک تصویر وائرل ہوئی۔ اس تصویر میں دونوں وزراء کچھ دیگر افراد کے ہمراہ ایک خصوصی طیارے میں براجمان ہیں۔

اس تصویر پر سوشل میڈیا میں بڑی لے دے ہوئی جس پر وزیر خارجہ کو وضاحت کرنا پڑی کہ میرے ہر غیرملکی دورے میں میری ٹیم میرے ساتھ ہوتی ہے۔ غیرملکی دورے اور خصوصی طیارے کے اخراجات میں اپنی جیب سے ادا کرتا ہوں اور میرے دوروں یاجہاز پر خرچ ہونےوالے اخرجات کا ایک دھلیہ بھی قومی خزانے سے نہیں لیا جاتا۔ میں نے جب سے سرکاری عہدہ سنبھالا اس کے بعد اب تک میں نے سرکاری خزانےسے کوئی پیسہ نہیں لیا۔

یہ تصویربدھ کے روز ٹویٹر پروائرل ہوئی جس کے بعد اس پر تنقید کی ایک نہ ختم ہونے والی لہر شروع ہوگئی۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ لبنانی حکومت کے وزراء قومی خزانے پربوجھ ہیں اور وہ اپنے اللے تللوں اور شہ خرچیوں کے لیے قومی خزانے سے پیسے وصول کرتے ہیں۔ حکومت اور وزراء کے سادگی اور کفایت شعاری اختیار کرنے کے دعوے بے بنیاد ہیں۔ وزراء اور ان کی ٹیموں کا خصوصی طیاروں میں مٹر گشت ان کی شہ خرچیوں اور قومی خزانے کی لوٹ مار کا واضح ثبوت ہے۔

جبران باسیل کے طیارے کی تصویر پرتنقید کے دوران لبنانی فورسز نامی جماعت کے رہ نما اور رکن پارلیمنٹ عماد واکیم اور جبران باسیل کی جماعت نیشنل فریڈم موومنٹ کے ادی معلوف اور انقولا صحناوی کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔

عماد واکیم نےایک ٹویٹ میں لکھا کہ عوام کرپشن کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور ہماے وزیر خارجہ خصوصی طیارے پر ایک سے دوسرے اجلاس کے لیے مٹر گشت کررہےہیں۔۔ وہ بھول گئے ہیں کہ لبنان میں کرپشن کس حد تک پھیل چکی ہے اور ریاست کتنی بد انتظامی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے ٹیکنوکریٹ کی حکومت کی تشکیل کی فوری ضرورت ہے۔ موجودہ صورت حال میں لبنانی عوام کے لیے کوئی خیر کی خبر نہیں۔

رکن پارلیمنٹ نقولا صحناوی نے اپنے سیاسی حریف کی ٹویٹ کا تمسخرہ اڑاتے ہوئے کہا کہ جبران باسیل کے پاس اپنی ایک کشتی، ایک قلعہ اور کئی دوسری جائیدادیں ہیں۔