.

سعودی عرب: مچھلیوں کے غیرقانونی شکار پرجرمانے کی حد 30 ملین ریال مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وائلڈ لائف اتھارٹی کے نائب صدر ہانی تطوانی نے انکشاف کیا کہ اتھارٹی نے ملک میں سمندری اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے ہرممکن اقدام کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مچھلیوں کے غیرقانونی شکار پرجرمانے کی حد 30 ملین ریال کردی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ برس مچھلیوں کے غیرقانونی شکار کے 55 واقعات سامنے آئے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو بھاری جرمانے کیے گئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کے محکمہ تحفظ جنگلی حیات کی طرف سے شکار گاہوں سے باہر جانوروں کے شکار پر سخت پابندیاں عاید کی ہیں۔ حکومت کی طرف سے بحیرہ احمر کے ساحل، خلیج عرب کے اطراف اور 20 کلو میٹر قریبی خشک علاقوں میں شکار کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔

مکہ معظمہ، مشرقی ساحل اور دیگر علاقوں میں پرندوں کے شکار کی روک تھام کے لیے وائلڈ لائف اتھارٹی وزارت داخلہ، مکہ معظمہ گورنری، بارڈر سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے۔ حکومت کی طرف سے ان علاقوں میں پرندوں کے شکار کا مقصد پروندوں کو گذرنے کے لیے آزاد فضا مہیا کرنا اور ساحلی علاقوں میں پرندوں کو ہرممکن تحفظ فراہم کرنا ہے۔

محکمہ تحفظ جنگلی حیات کاکہنا ہے کہ پرندوں اور دوسرے جانوروں کےغیرقانونی شکار کی روک تھام کے لیے ایک پروٹیکشن ٹاسک فورس بھی قائم کی گئی ہے جو دیگراداروں کےساتھ مل کر شکار گاہوں سے باہر ہونے والے شکار کی روک تھام میں سرگرم ہے۔

گذشتہ برس مکہ معظمہ میں پرندوں کےغیرقانونی شکار کے 22 اور مشرقی ساحل پر 12 واقعات سامنے آئے۔

ھانی تطوانی کا کہنا ہے کہ مچھلیوں کے غیرمجاز شکار کے جرمانے کی مقدار بڑھانے کا مقصد لوگوں کو سمندری حیات کو خطرے میں ڈالنے اور بے تحاشا مچھلیوں کو ہلاک کرنے سے روکنا ہے۔