.

سعودی عرب کی برکت سے عربی رسم الخط آرٹ اور تہذیب وثقافت کا نمونہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے عربی زبان کے تحفظ اور اس کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دینے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ عربی زبان محض ایک بولی ہی نہیں بلکہ یہ اپنے منفرد اور ہمہ نوع رسم الخط کی بہ دولت عرب تہذیب، آرٹ اور ثقافت کا حصہ ہے۔ عربی زبان کی بقاء اور اس کا تحفظ دراصل عرب تہذیب تمدن کا تحفظ ہے۔ چونکہ سعودی عرب بالعموم پوری دنیا بالخصوص مسلمانان عالم کا مرجع ہے اس لیے عربی زبان کا تحفظ اور بھی ناگزیر ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے نوجوان وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن فرحان آل سعود نے سال '2020ء' کوعربی رسم الخط کا سال قرار دیا ہے۔

عربی خطاطی ایک آرٹ ہی نہیں بلکہ پورا علم اور ثقافت کی پہلو ہے۔ گذشتہ صدیوں میں انسانی تہذیب تمدن کی ترقی کے ساتھ ساتھ عربی زبان نے بھی اپنی منفرد خطاطی کے نمونوں کے نئے مدارج طے کیے ہیں۔

سعودی وزارت ثقافت کا 2020 کو عربی خطاطی کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان اس بات کا اعتراف ہے کہ عربی زبان اور اس کا رسم الخط باقاعدہ عرب کلچر کا حصہ ہے۔ سعودی عرب کا عربی زبان کے ساتھ جو تعلق ہے اس کے اظہار کے لیے ایسے اقدامات عرب کلچر اور زبان وادب کی ترقی کے لیے ضروری بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مملکت کی طرف سے عربی رسم الخط اور عربی زبان وادب کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

عربی خطاطی کے فنون عام کرنا، خصوصی اور ہنرمند افراد کو عربی خطاطی کی طرف راغب کرنا،، عربی خطاطی کے فن کو پیش کرنے کے لیے متعلقہ شعبوں میں ہونے والی انفرادی کوششوں کو اجتماعی شکل دینا مملکت کے اہداف میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ سعودی عرب کے اس قومی ثقافتی اور منصوبے کو اقوام متحدہ کے سائنسی اور ثقافتی ادارے'یونیسکو' کی طرف سے بھی بھرپور معاونت حاصل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں