.

شامی باغیوں کے حلب میں اسدنواز فورسز پر دو خودکش کار بم حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی باغیوں نے شمال مغربی شہر حلب میں صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز پر ہفتے کو دو خودکش کار بم حملے کیے ہیں۔

سخت گیر جنگجو گروپ ہیئت تحریرالشام نے ان دونوں خودکش بم حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔خودکش بمباروں نے حلب کے مغرب میں واقع علاقے جمعیت الزہرا کو اپنے حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔اس گروپ کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ بارود سے بھری تیسری کار کو ریموٹ کنٹرول سے دھماکے سے اڑایا گیا ہے۔

گروپ نے انٹرنیٹ پر خودکش بمباروں کی ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے۔اس میں وہ ہیئت تحریرالشام کے لیڈر ابومحمد الجولانی کے سامنے شہادت کا عزم ظاہر کررہے ہیں۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے یہ اطلاع دی ہے کہ فوجیوں نے بارود سے بھری چار کاروں کو ان کے ہدف پر پہنچنے سے پہلے دھماکوں سے اڑا دیا تھا اورانھیں ناکارہ کردیا تھا۔شامی فوج نے جمعیت الزہرا کے محاذ پر باغی جنگجوؤں پرراکٹ برسائے ہیں اور توپ خانے سے گولہ باری کی ہے۔ باغی جنگجوؤں نے بھی جواب میں حلب کے رہائشی علاقوں کی جانب راکٹ برسائے ہیں۔

ہیئت تحریرالشام کے ذریعے نے بتایا ہے کہ ان حملوں میں ایران کی قابض ملیشیاؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔اس کااشارہ ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کی جانب ہے جو صدر بشارالاسد کی حمایت میں باغیوں کے خلاف لڑرہی ہیں۔

ادھر حلب سے قریباً پچاس کلومیٹر شمال مشرق میں واقع شہر الباب کے نزدیک ترکی کے حمایت شامی جنگجوؤں نے حکومت کے ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے لیکن سانا نے اس حملے کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔

شامی فوج کی باغیوں کے خلاف اس نئی کارروائی کے نتیجے میں مزید ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔ وہ اپنا گھربار چھوڑ کر ترکی کے سرحدی علاقے کی جانب جارہے ہیں۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے گذشتہ جمعہ کو خبردار کیا تھا کہ ان کا ملک ادلب میں لڑائی رکوانے کے لیے فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔

امریکا کے خصوصی ایلچی برائے شام جیمز جعفرے نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ادلب میں لڑائی سے ایک بین الاقوامی بحران پیدا ہونے کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

ترکی میں پہلے ہی چھتیس لاکھ سے زیادہ شامی مہاجرین رہ رہے ہیں۔اس نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ادلب سے مہاجرین کی نئی لہر ترکی کے سرحدی علاقے کا رُخ کرسکتی ہے۔ ترکی کی اس وقت ادلب کے اردگرد نگرانی کے لیے بارہ چوکیوں قائم ہیں۔یہ ترکی کے روس اور ایران کے ساتھ 2017ء میں طے شدہ ایک سمجھوتے کے تحت قائم کی گئی تھیں۔ان میں بعض کا اس وقت شامی فورسز نے گھیراؤ کررکھا ہے۔

شامی فوج نے اسی ہفتے روس کی فضائی مدد سے باغیوں کے زیر قبضہ شمال مغربی علاقے کی جانب نمایاں پیش قدمی کی ہے اور اس نے صوبہ ادلب میں واقع شہر معرۃ النعمان پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔اس کے علاوہ دمشق اور حلب کے درمیان واقع مرکزی شاہراہ کو بھی محفوظ بنا لیاہے۔

شام کا شمال مغربی علاقہ ہی اس وقت باغی گروپوں کے زیر قبضہ رہ گیا ہے۔اس میں صوبہ ادلب اور اس سے متصل صوبہ حلب کے علاقے شامل ہیں۔ماضی میں باغیوں کے زیرتسلط آنے والے باقی تمام علاقے صدر بشارالاسد کی فوج نے روس اور ایران کی فوجی مدد سے واپس لے لیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں