.

ایردوآن نے لیبیا میں ترک فورسز کے ساتھ موجودگی کو اجرتی جنگجوؤں کے لیے اعزاز قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ "لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں ترکی کی فورسز کے شانہ بشانہ موجود شامی گروپوں کے عناصر وہاں اپنی موجودگی کو اعزاز سمجھتے ہیں"۔

منگل کے روز انقرہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ترکی کے صدر نے کہا کہ شام سے آنے والے سیرین نیشنل آرمی کے ارکان مشترکہ مقاصد کے سلسلے میں لیبیا میں موجود ہیں۔

ایردوآن نے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں ترکی کی فوج کے دو اہل کاروں کی ہلاکت کا اقرار کیا۔ تاہم انہوں نے مزید تفصیلات بیان نہیں کیں۔

اس سے قبل ہفتے کے روز بھی لیبیا میں متعدد ترک فوجیوں کے مارے جانے کا اعلان کیا گیا۔

ادھر لیبیا کی قومی فوج نے اتوار کے روز اعلان میں بتایا تھا کہ اس نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ترکی کے 16 فوجی ہلاک کر دیے۔

یاد رہے کہ ترکی اس سے قبل بارہا اس بات کی تردید کر چکا تھا کہ وہ شامی اجرتی جنگجوؤں کو لیبیا کے دارالحکومت لے کر آیا ہے یا پھر ترکی کے فوجی وہاں موجود ہیں۔ تاہم چند رز قبل ترکی نے پینترا بدلتے ہوئے اپنے صدر کی زبانی اعلانیہ طور پر اقرار کر لیا کہ طرابلس میں ترکی فوجی اور شامی جنگجو موجود ہیں۔

ترکی اس وقت لیبیا میں وفاق حکومت کو سپورٹ پیش کر رہا ہے جس نے دارالحکومت طرابلس کو اپنا صدر مقام بنایا ہوا ہے۔ گذشتہ سال فریقین نے عسکری تعاون کے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے۔ اس کے بعد ترکی نے اپنی فوج اور اتحادی شامی گروپوں کے جنگجوؤں کو ساتھ میں لیبیا بھیجا۔ اس اقدام کا مقصد جنرل خلیفہ حفتر کے زیر قیادت لیبیا کی فوج کا مقابلہ کرنا ہے۔ لیبیا کی فوج نے گذشتہ اپریل سے فوجی کارروائی شروع کر رکھی ہے تا کہ دارالحکومت سے شدت پسند ملیشیاؤں کو بے دخل کیا جا سکے۔

البتہ اجرتی جنگجوؤں اور ترکی کے ہتھیاروں کی مزید کھیپوں کو لیبیا بھیجنا ،،، گذشتہ ماہ برلن میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں عالمی قوتوں کے متفقہ امر کے خلاف ہے۔ برلن کانفرنس کے شریک ممالک نے لیبیا میں لڑائی کی کارروائیوں اور ہتھیاروں پر پابندی پر زور دیا تھا۔