.

ایران کی جیلوں میں شورش کا سلسلہ جاری ، شیراز میں بھی قیدیوں کی بغاوت کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی جیلوں میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خوف کے تحت گذشتہ دنوں کے دوران قیدیوں کی جانب سے شورش اور بغاوت کا سلسلہ دیکھا جا رہا ہے۔ بعض قیدیوں کے کرونا سے متاثر ہونے اور وفات پا جانے کے بعد جیلوں میں بند افراد کے اندر خوف کے جذبات شدت کے ساتھ جنم لے رہے ہیں۔ اس حوالے سے تازہ ترین واقعہ شیراز میں "عادل آباد" میں دیکھنے میں آیا۔ یہاں اتوار کی شام بغاوت اور فرار کی کوشش کے دوران قیدیوں اور جیل کے محافظین کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

سوشل میڈیا پر بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ واقعے میں متعدد قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ تاہم حکام نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے صورت حال پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے وڈیو کلپس میں ہتھیاروں سے لیس درجنوں سیکورٹی اہل کاروں اور پولیس کی گاڑیوں کو جیل کے اطراف ہنگامی حالت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر سرگرم افراد کا کہنا ہے کہ اس دوران جیل کے اندر فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔

دیگر وڈیو کلپوں میں شیراز میں عادل آباد جیل کے اطراف آنے والی سڑکوں کی ناکا بندی نظر آ رہی ہے۔ ایران کے جنوبی صوبے فارس میں واقع یہ جیل ملک کے سب سے بڑے قیدخانوں میں سے ایک ہے۔ یہاں 10 ہزار سے زیادہ قیدی موجود ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی اِسنا نے فارس صوبے میں عدالتوں کے سربراہ کاظم موسوی کے حوالے سے بتایا ہے کہ جیل میں بغاوت کرنے والے قیدیوں کا تعلق سنگین اور بڑے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں سے ہے۔ ان افراد کی جیل کے محافظین کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ موسوی نے مزید بتایا کہ مذکورہ باغی قیدیوں نے جھڑپوں کے دوران بعض ستونوں اور سیکورٹی کیمروں کو توڑ پھوڑ دیا۔ تاہم اسپیشل سیکورٹی فورسز اور پولیس کی جانب سے جیل میں مداخلت کے ساتھ ہی صورت حال کنٹرول میں آ گئی۔ عدالتوں کے سربراہ کے مطابق جھڑپوں کے دوران کوئی قیدی ، جیل کا محافظ یا سیکورٹی فورسز کا کوئی اہل کار زخمی نہیں ہوا۔ مزید یہ کہ کوئی بھی قیدی فرار نہیں ہو سکا۔

یاد رہے کہ گذشتہ ڈھائی ہفتوں کے دوران جن قیدخانوں میں بغاوت دیکھنے میں آئی ان میں کردستان صوبے میں مہاباد جیل اور ہمدان صوبے میں الوند جیل شامل ہیں۔ ان کے علاوہ جمعے کے روز کردستان صوبے میں سقّز جیل میں ہونے والی بغاوت کے دوران 80 قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ مزید برآں خرم آباد کی تبریز جیل اور اولیگودارز کی پارسیلون جیل میں بھی قیدیوں کی جانب سے بغاوت کے واقعات پیش آئے۔