.

گھروں کی چھتوں پر باجماعت نماز اور ازراہِ مذاق چھینکنے سے متعلق مصری دار الافتاء کی وضاحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں مرکزی دار الافتاء نے چھتوں پر باجماعت نماز کے لیے دوسروں کو دعوت دینے کے حوالے سے شرعی مسئلے کا جواب دیا ہے۔ دار الافتاء میں فتوی شعبے کے ذمے دار شیخ محمد عبد السميع کا کہنا ہے کہ "بعض لوگ کو دیکھا جا رہا ہے کہ وہ گھروں کی چھتوں پر باجماعت نماز کے انعقاد کے لیے مجمع اکٹھا کرتے ہیں ،،، یہ عمل جائز نہیں ہے کیوں کہ اس طرح لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالی جا رہی ہیں ،،، ہو سکتا ہے کہ مجمع میں شامل کوئی شخص کرونا وائرس کا حامل ہو اور اسے اس بات کا احساس نہ ہو"۔

شیخ نے مزید کہا کہ ریاست نے جب مساجد کی بندش کا فیصلہ کیا تو اس کا مقصد لاک ڈاؤن نہیں بلکہ تھا بلکہ یہ کرونا سے متاثر ہونے کے امکان کے سبب نمازیوں کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔

عربی ویب سائٹ "اليوم السابع" نے دارا الافتاء کے حوالے سے بتایا کہ لوگوں کو گھبراہٹ میں مبتلا کرنے کے لیے مذاق کی نیت سے لوگوں کے سامنے چھینکنے کا عمل شرعی اور سماجی کسی طور بھی قابل تعریف نہیں ہے۔ یہ ایک غیر اخلاقی بے ہودگی ہے جو لوگوں کو ڈرانے اور انہیں دھوکا دینے کے مقصد سے کی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ بحران کے وقت اخلاقیات پر جمے رہنے کی ضرورت شدید تر ہو جاتی ہے۔