.

سعودی عرب کا نجی شعبے کی بحالی کے لیے غیرمعمولی بجٹ مختص

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی حکومت نے کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے مالیاتی بحران میں نجی سیکٹر کی امداد کے لیے غیرمعمولی بجٹ مقرر کیا ہے۔

سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد الجدعان نے 'العربیہ' ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ نجی شعبے کی مدد کے لیے حکومت نے ایک کھرب 80 ارب ریال کا بجٹ مختص کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بجٹ 'غیر تیل جی ڈی پی' کا 8 فی صد ہے۔ نجی شعبے کے لیے اتنی خطیر رقم مقرر کرنے کرونا کی وجہ سے نجی سیکٹر کو درپیش مالی مسائل سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

الجدعان نے کہا کہ حکومت محصولات میں زبردست کمی کے بعد اخراجات کو کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔توقع ہے کہ اگلے مالی سال تک محصولات میں غیرمعمولی کمی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے گڈ گورننس کے حوالےسے جاری کردہ سفارشات پر زور دیا اور کہا کہ حکومت کی طرف سے ملنے والے ریلیف پیکیج کی مدد سے شہریوں کی ملازمتوں کے تحفظ یقینی بنایا جائےگا۔ کمپنیوں کی جائے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ مملکت میں مستقبل میں جاری ہونے والے منصوبوں میں سعودی شہریوں کو ملازمت میں پہلی ترجیح دی جائے گی۔

انھوں نے کہا:’’ سعودی عرب سرکاری مالیات میں پائیداری کے لیے پُرعزم ہے۔وہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اس کے پاس اس بحران کے طول پکڑنے کی صورت میں وافر مالیاتی وسائل دستیاب ہوں۔ہم نے شعبہ صحت کو وسائل مہیا کرنے کے علاوہ مالیاتی نظم ونسق کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔اپنے اخراجات میں کمی کی ہے اور اس وقت ہم اس بات پر غور کررہے ہیں کہ بجٹ خسارے کو کم سے کم سطح پر رکھنے کے لیے مزید کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔یہ تو یقینی امر ہے کہ آمدن میں نمایاں کمی واقع ہوگی اور آیندہ سہ ماہیوں میں ہم اس کے اثرات ملاحظہ کریں گے۔‘‘

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ ’’اس سال کے آغاز میں عالمی مارکیٹ میں ایک بیرل خام تیل کی قیمت 60 ڈالر تھی لیکن ان دنوں میں یہ کم ہوکر 20 ڈالر فی بیرل کے لگ بھگ رہ گئی ہے۔قیمت میں اس نمایاں کمی سے تیل سے حاصل ہونے والی آمدن میں 50 فی صد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ ’’سعودی عرب نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے سخت حفاظتی تدابیر اختیار کی ہیں۔شہروں میں لاک ڈاؤن اور کرفیو کی وجہ سے عام معاشی سرگرمیاں ختم ہوکررہ گئی ہیں۔یوں غیر تیل ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن میں بھی کمی واقع ہوئی ہے اور اس میں مزید بھی کمی واقع ہوگی۔ہمیں اب آیندہ حالات سے دانش مندی اور مؤثر طریقے سے نمٹنا ہے۔ان شاء اللہ سعودی عرب اس ناگہانی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کرے گا،دنیا کو دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے 75 سال کے بعد اس طرح کی ناگہانی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ کسی وبائی مرض کی شکل میں تو دنیا کو پہلے کبھی ایسے حالات کا سامنا نہیں ہوا تھا۔‘‘

وزیر خزانہ نے گذشتہ ہفتے یہ عندیہ دیا تھا کہ مملکت اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو کم سے کم استعمال کرے گی اور زیادہ سے زیادہ 32 ارب ڈالر تک ان سے رقوم کا استعمال کرے گی۔اس کے بجائے وہ 60 ارب ڈالر کی رقم بانڈز کی شکل میں یا قرض کی صورت میں لے گی۔انھوں نے العربیہ سے انٹرویو میں بھی کہا ہے کہ '' ہم 220 ارب ریال تک قرض حاصل کریں گے لیکن اس کا انحصار مارکیٹ کی صورت حال اور دستیاب لیکویڈیٹی (نقدی) پر ہوگا۔‘‘