.

ویٹی کن اسرائیل کےمقبوضہ غربِ اردن کو ہتھیانے کے منصوبے پر مُشَوَّش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسیحی دنیا کے رومن کیتھولک فرقے کے مرکز ویٹی کن نے اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے کے بڑے حصےکو ہتھیانے کے منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے امن مذاکرات کے امکانات مزید معدوم ہوجائیں گے۔

فلسطینیوں کے اعلیٰ مذاکرات کار صائب عریقات نے بدھ کو ویٹی کن سٹی کے خارجہ پالیسی کے سربراہ آرچ بشپ پال رچرڈ گالگر سے ملاقات کی ہے۔اس کے بعد ویٹی کن نے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ بین الاقوامی قانون کا احترام اور اقوام متحدہ کی قراردادیں فلسطینی اور اسرائیلی دونوں عوام کے ساتھ ساتھ رہنے کے لیے ایک ناگزیر عنصر کی حیثیت رکھتی ہیں۔

اسرائیل کی قومی اتحاد کی نئی حکومت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق غرب اردن کے بڑے حصے اور وہاں قائم یہودی بستیوں کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے حالانکہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہودی بستیاں غیر قانونی ہیں اور امریکا کے سوا عالمی برادری اور ادارے انھیں غیر قانونی ہی قراردیتے ہیں۔

فلسطینی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس سال کے اوائل میں پیش کردہ نام نہاد ’’صدی کی امن ڈیل‘‘ کو مسترد کرچکے ہیں جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ’’یہودی بستیوں پر اسرائیلی تسلط ہمیں امن سے دور نہیں لے جائے گا بلکہ یہ ہمیں اس کے قریب تر کردے گا۔

ویٹی کن نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ’’ صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور وہ کسی بھی ایسے اقدام کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتا ہے جس کے نتیجے میں مستقبل میں مکالمے پر کوئی سمجھوتا ہوسکتا ہو۔‘‘

اس میں رومن کیتھولک کی شہری ریاست کی جانب سے اس امید کا اظہار کیا گیا ہے کہ براہ راست بات چیت کے ذریعے جلد کوئی حل تلاش کیا جاسکتا ہے تاکہ یہود ، مسلمانوں اور عیسائیوں تینوں کے لیے مقدس سرزمین میں امن کا قیام ممکن ہوسکے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ اوسط امن منصوبہ کو اسرائیل نواز سے تعبیر کیا گیا ہے۔انھوں نے اس میں اسرائیل کو غربِ اردن میں قائم یہودی بستیوں اور دوسرے تزویراتی علاقوں کو ضم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

فلسطینیوں کے علاوہ یورپی یونین نے امریکی صدر کے امن منصوبے پر کڑی تنقید کی تھی اور یہ کہا تھا کہ اس سے مشرقِ اوسط کے دیرینہ تنازع کے دو ریاستی حل کا دروازہ ہمیشہ کے لیے موثر طور پر بند ہوجائے گا۔

نیتن یاہو نے اسی ہفتے وزارت عظمیٰ کی حلف برداری سےقبل مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع یہودی آبادکاروں کی بستیوں اور وادیِ اردن کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کے لیے یکم جولائی سے کابینہ میں بحث ومباحثہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔تاہم انھوں نے فلسطینی سرزمین کو ہتھیانے کے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے کوئی نظام الاوقات مقرر نہیں کیا ہے۔