.

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کے مقدمے کی سماعت کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے انتہا پسند وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف مقبوضہ بیت المقدس (یروشلیم) کی ضلعی عدالت میں اتوار کو بدعنوانی کے مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوگیا ہے۔وہ صہیونی ریاست کے پہلے برسراقتدار وزیراعظم ہیں جن کے خلاف فوجداری مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

نیتن یاہو یروشلیم کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں خود پیش ہوئے ہیں۔وہ اس حاضری کے پابند تھے۔ انھوں نے ایک ہفتہ قبل ہی پانچویں مدت کے لیے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا تھا۔انھوں نے اپنے سابق سیاسی حریف بینی گینز کے ساتھ مل کر قومی اتحاد کی حکومت بنائی ہے۔ان کے زیر قیادت مخلوط کابینہ کی تشکیل کے ساتھ گذشتہ سوا ایک سال سے ملک میں جاری سیاسی رسا کشی کا بھی خاتمہ ہوگیا ہے۔

ان کے خلاف گذشتہ سال نومبر میں رشوت خوری، فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے تین مقدمات میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔انھوں نے اپنے کروڑ پتی دوستوں سے تحائف قبول کیے تھے اور اپنے حق میں موافقانہ کوریج پر میڈیا ٹائیکونوں کو ریگولیٹری حمایت دلانے کی کوشش کی تھی۔

ان کے خلاف فردجُرم میں 333 گواہوں کے نام شامل ہیں۔اسرائیل کے اٹارنی جنرل انھیں مقدمے کی سماعت کے دوران میں شہادتوں کے لیے عدالت میں طلب کرسکتے ہیں۔

نیتن یاہو اسرائیل کی دائیں بازو کی لیکوڈ پارٹی کے سربراہ ہیں۔وہ اپنے خلاف مقدمے کو بائیں بازو کی ’چڑیل کا تعاقب‘ مہم سے تعبیر کرچکے ہیں جس کا مقصد ان کے بہ قول دائیں بازو کے مقبول لیڈر کو اقتدار سے نکال باہر کرنا ہے۔

قانونی تقاضوں کے تحت اس مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے نیتن یاہو کو وزیراعظم کی حیثیت سے مستعفی ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔وہ یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی عدالتی جنگ ان کے کام کرنے کی اہلیت پر اثر انداز نہیں ہوگی۔

ضلعی عدالت کا ایک تین رکنی پینل ان کے خلاف مقدمے کی سماعت کررہا ہے۔اس نے گذشتہ بدھ کو نیتن یاہو کی افتتاحی سیشن میں حاضری سے مستثنیٰ قرار دینے کی درخواست مسترد کردی تھی۔بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ بہ طور وزیراعظم مدعا علیہ کی حیثیت سے عدالت کے کٹہرے میں کھڑا ہونے سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ نیتن یاہو اسرائیل کی تاریخ میں گذشتہ سال جولائی میں سب سے زیادہ عرصہ برسراقتدار رہنے والے وزیراعظم بن گئے تھے۔ ان سے قبل ڈیوڈ بن گوریان طویل عرصہ صہیونی ریاست کے وزیراعظم رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں