.

لبنان : طرابلس میں حالات پرسکون بنانے کے لیے فوج تعینات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے شمالی شہر طرابلس میں حالات پرسکون بنانے کے لیے فوج کے دستوں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل ہفتے کی شب شہر میں سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔ مظاہرین اقتصادی صورت حال کی ابتری کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ آج اتوار کے روز طرابلس میں بھرپور سیکورٹی اقدامات دیکھے جا رہے ہیں۔

لبنان بھر میں عوامی احتجاج کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد طرابلس میں بھی گذشتہ دنوں کے دوران جھڑپوں کا سلسلہ دیکھا گیا۔ اس کے نتیجے میں سیکورٹی فورسز کے اہل کاروں اور مظاہرین سمیت درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ اس دوران مظاہرین کی جانب سے آگ بھڑکائی گئی اور شہر کے راستوں کو بند کر دیا گیا۔

ادھر لبنان کے وزیر اعظم حسان دیاب نے کئی علاقوں میں احتجاج شروع ہونے کے تین روز بعد ملک میں جاری حالات کی ذمے داری قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے ڈالر کے سامنے لبنانی کرنسی لیرہ کی شدید گراوٹ کے بعد جنم لینے والے اقتصادی حالات پر شدید غصے اور ناراضگی کا اظہار کیا۔ ہفتے کے روز اپنے بیان میں دیاب "الدويلات" (یہاں مراد ریاست کے اندر ریاستیں) کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ اصطلاح کئی علاقوں اور شعبوں میں حزب اللہ ملیشیا کے نفوذ کے لیے بولی جاتی ہے۔

لبنان میں حالیہ مظاہروں کا آغاز جمعرات کے روز ہوا جب سیکڑوں افراد نے گذشتہ ہفتے کے دوران کرنسی کی قدر میں مزید کمی کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اقتصادی بحران کو قابو کرنے میں حکومت کے قاصر ہو جانے پر لبنانی عوام بپھرے ہوئے ہیں۔ ملک کے اقتصادی بحران نے لوگوں کے معاشی حالات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

گذشتہ برس اکتوبر کے بعد سے لبنانی لیرہ کی قدر میں 70% کمی واقع ہو چکی ہے۔ اس وقت ملک شدید مالی بحران میں ڈوب گیا تھا۔ اس کے سبب قیمتوں میں اضافہ ہوا اور ملازمتیں کم ہو گئیں۔ بینکوں میں ڈالر اکاؤنٹ کو منجمد کر دیا گیا تھا۔

ہفتے کے روز عوام نے بیروت، طرابلس اور صیدا میں سڑکوں پر آ کر احتجاجی مظاہرے کیے۔ مظاہرین میں سے بہت سے لوگوں نے حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔