.

ملک سے فرار ہونے والا ایرانی جج رومانیا میں پراسرار طور پر قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا سے فارسی زبان میں نشریات پیش کرنے والے "فردا" ریڈیو کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران سے فرار ہونے والے جج غلام رضا منصوری کو رومانیا میں ایک ہوٹل کے باہر قتل کردیا گیا ہے۔ رضا منصوری ایران سے فرار کے بعد رومانیا آگیا تھا جہاں وہ کچھ عرصے سے ایک ہوٹل میں رہائش پذیر تھا۔

ریڈیو رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی بدعنوانی میں ملوث ایرانی جج کی لاش اس کے ہوٹل کے کمرے کے باہر سے ملی ہے۔ پولیس نے لاش قبضے میں لے کر اس کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔۔

امریکی فارسی ریڈیو کےنامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایسے لگتا ہے کہ غلام رضا منصوری کو اس کے کمرے کی کھڑکی سے باہر پھینکا گیا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی ہے۔

رومانیہ کی پولیس کو گذشتہ روز بتایا گیا کہ ہوٹل کی بالائی منزل میں رہائش پذیر ایک مسافر کی لاش سڑک کے کنارے پڑی ہے۔ اگرچہ پولیس نے مقتول کی شناخت ظاہر نہیں کی مگر اس کی عمر باون سال بیان کی ہے۔

البتہ امریکی ریڈیو فردا نے با خبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ رومانیا کے ایک ہوٹل میں پراسرار طورپر قتل ہونےوالا شخص ایران کا مفرور جج غلام رضا منصوری ہے۔ اسے گذشتہ ہفتے دارالحکومت بوخاست سے حراست میں بھی لیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بہ ظاہر ایسے لگتا ہے کہ مقتول نے خود کشی کی ہے یا اسے کمرے کی کھڑی سے باہر پھینکا گیا۔

غلام رضا منصوری کی موت ایک ایسے وقت میں واقع ہوئی ہے جب دوسری طرف سوشل میڈیا پر انسانی حقوق کارکنوں نے اس کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے الزامات میں سخت قانونی کارروائی کی مہم شروع کررکھی ہے۔ مسٹر منصوری پر ایران میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور صحافیوں کو ظالمانہ طریقے سے جیلوں میں قید کرنے کے احکامات صادر کرنے کا الزام ہے۔