.

لیبیا: سرت کے اطراف ترک فوج کی نقل و حرکت، عسکری انجینئروں اور ڈرون کی موجودگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسے وقت میں جب کہ لیبیا میں انقرہ نواز وفاق حکومت کی فورسز جنگ کے آپشن سے چمٹی ہوئی ہیں، قاہرہ میں العربیہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ترکی کے فوجی انجینئرز اس وقت لیبیا کے شہر سرت کے نزدیک موجود ہیں۔

مذکورہ ذرائع نے بدھ کی صبح بتایا کہ ترکی کے ڈرون طیاروں نے سرت کے قریب متعدد جگہؤں کی تصاویر لیں۔ لیبیا کی قومی فوج نے ان ڈرون طیاروں کا پتہ چلا لیا۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ مصر نے لیبیا کی فوج اور لیبیا کے پارلیمنٹ کے ساتھ رابطے کے لیے براہ راست ہاٹ لائن کھول دی ہے۔ اس کا مقصد اپنی قومی سلامتی برقرار رکھنے کے سلسلے میں لیبیا میں تمام پیش رفت پر نظر رکھنا ہے۔

یاد رہے کہ لیبیا کی فوج کے سرکاری ترجمان احمد المسماری نے منگل کے روز باور کرایا تھا آئندہ گھنٹوں کے دوران سرت اور الجفرہ کے اطراف بڑا معرکہ دیکھنے میں آئے گا۔ ترجمان نے بتایا تھا کہ دونوں شہروں کے اطراف وفاق حکومت کی ملیشیاؤں اور ترکی کی فوج بڑے پیمانے پر نقل و حرکت کر رہی ہے۔

دوسری جانب لیبیا کی فوج کے ایک سینئر عہدے دار میجر جنرل خالد المحجوب کا کہنا ہے کہ مصر کا حق ہے کہ وہ لیبیا میں مداخلت کرے کیوں کہ وہ لیبیا کے امن میں حقیقی شراکت دار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرت اور الجفرہ کا کے علاقوں کا قدرتی محل وقوع ان پر حملوں کے لیے فضائی معاونت کا متقاضی ہے۔ یہ چیز ترکی کی فورسز کے لیے اسے نہایت پیچیدہ آپریشن بناتی ہے۔

اس سے قبل لیبیا کی پارلیمنٹ نے اعلان کیا تھا کہ اس نے مصر کو لیبیا میں فوجی مداخلت کی اجازت دے دی ہے تا کہ دونوں ملکوں کی قومی سلامتی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ پارلیمنٹ کے مطابق ترکی کے قبضے کا قلع قمع کرنے کے لیے دونوں ملکوں کا مشترکہ طور پر اپنی کوششوں کو کامیاب بنانا بہت اہم ہے۔

مصر پہلے ہی اعلان کر چکا ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی کی حفاظت کے لیے فوجی مداخلت سے ہر گز نہیں ہچکچائے گا۔ مصری صدر عبدالفتاح السیسی سرت شہر کو سرخ لکیر قرار دے کر واضح کر چکے ہیں کہ وفاق حکومت کی فورسز کو اسے عبور نہیں کرنا چاہیے۔ السیسی نے عندیہ دیا تھا کہ سرت شہر کو کسی بھی خطرے کا سامنا کرنے کی صورت مین ان کا ملک "براہ راست مداخلت" پر مجبور ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ ساحلی شہر سرت لیبیا کے سابق سربراہ معمر قذافی کا آبائی شہر ہے۔ بعد ازاں یہ داعش تنظیم کا عارضی گڑھ بن گیا۔ لیبیا کے مشرقی اور مغربی حصے کے درمیان تزویراتی اہمیت کا حامل یہ شہر یورپی ساحل سے تقریبا 300 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ لیبیا کی فوج نے جنوری 2020 میں اس پر بنا لڑائی کے کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔