لیبیا میں ترکی کی مداخلت کسی طور قابل قبول نہیں: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فرانس کی خاتون وزیر دفاع فلورنس پارلی نے باور کرایا ہے کہ ان کا ملک لیبیا میں کسی بھی عسکری کیمپ کو سپورٹ نہیں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا کی فوج کے کمانڈر خلیفہ حفتر نے لیبیا میں داعش تنظیم کے انسداد میں اہم کردار ادا کیا۔

پارلی نے ایک اخباری بیان میں غیر ملکی قوتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ لیبیا میں مداخلت کا سلسلہ روک دیں اور لیبیا کو ہتھیاروں کی فراہمی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی جانب سے عائد پابندی کی خلاف ورزیوں سے گریز کریں۔ علاوہ ازیں برلن کانفرنس کے نتائج کے مطابق ایک سیاسی حل تلاش کرنے کی طرف واپس لوٹیں۔

پارلی کے مطابق فرانس لیبیا میں ہتھیاروں پر عائد پابندی کی کسی بھی صورت خلاف ورزی کی مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی اس وقت شام سے بڑی تعداد میں اجرتی جنگجوؤں کو لیبیا لا رہا ہے۔

اس سے قبل فرانس کی وزیر دفاع نے جمعرات کے روز ترکی کی جانب سے بحیرہ روم کے مشرق میں کی جانے والی کارروائیوں پر اپنے ملک کی جانب سے گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔

فلورنس پارلی نے یورپی یونین کے سلسلے میں قبرص کے لیے سپورٹ کا بھی اظہار کیا۔

یورپی پارلیمنٹ میں سیکورٹی اور دفاع کی ذیلی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے پارلی کا کہنا تھا کہ "فرانس لیبیا میں کسی عسکری حل پر یقین نہیں رکھتا ، ہم اقوام متحدہ اور برلن کانفرنس کے نتائج کے ذریعے سیاسی تصفیے کے عمل کی تائید کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں