.

لیبیا : وفاق حکومت کی ملیشاؤں کے جنگجو بیزاری اور جھلسا دینے والی دھوپ کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کچھ عرصہ قبل لیبیا میں وفاق حکومت کے سربراہ فائز السراج اور ان کے نائب احمد معیتیق کے درمیان سیاسی دراڑ ظاہر ہوئی۔ علاوہ ازیں صدارتی کونسل کے رکن عبدالسلام کاجمان کی جانب سے تنقید بھی سامنے آئی۔

اس سیاسی دراڑ کے ساتھ ساتھ اب وفاق حکومت کے پرچم تلے لیبیا کی فوج کے خلاف لڑنے والے بعض جنگجو گروپوں اور ملیشیاؤں کے بیچ بھی اضطراب جنم لے رہا ہے۔

اس سلسلے میں وفاق حکومت کی ہمنوا مسلح ملیشیائیں جن کی قیادت بین الاقوامی سطح پر مطلوب صلاح بادی کے ہاتھ میں ہے ،،، انہوں نے اپنی بیزاری اور کسمساہٹ کا اظہار کیا ہے۔ ملیشیاؤں کے مطابق ان کے جنگجوؤں کو صحراء میں جھلسا دینے والی دھوپ کے سبب ہلاکت کا سامنا ہے۔ ان جنگجوؤں کو سرت اور الجفرہ کے محاذ کی سمت بھیجا گیا ہے اور وہ اس معرکے کے منتظر ہیں جو جلد شروع ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ اس معرکے کے لیے کئی ہفتوں سے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

صلاح بادی کے زیر انتظام "موومنٹ بریگیڈ 36" کے میڈیا سینٹر نے گروپ کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ "سرت شہر کے مغرب میں لڑائی کے منتظر نوجوانوں کو دھوپ، ریت اور میل کچیل کھا رہا ہے"۔

دو روز قبل جاری بیان میں کہا گیا کہ "سرت کے مغرب میں اکٹھا ہونے والے اکثر جنگجوؤں نے اپنے کاموں اور مشاغل سے دست برداری اختیار کی، اپنے چھوٹے بچوں کو بجلی، پانی اور نقدی کے بغیر چھوڑ دیا اور اوپر سے کرونا کی وبا نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی"۔

مذکورہ بریگیڈ نے پہلی مرتبہ بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ سرت کے معرکے کے لیے اکٹھا ہونے والے اس کے عناصر کے بیچ اکتاہٹ اور بیزاری بڑھتی جا رہی ہے۔

ایک سیاسی ذریعے نے مصراتہ اور طرابلس کے کیمپوں کے درمیان اختلافات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عربی روزنامے الشرق الاوسط کو بتایا کہ "یہ بات اب عیاں ہو چکی ہے کہ مغربی لیبیا میں دو فریق ہیں .. ان میں ایک فریق جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے جب کہ دوسرا فریق امریکا کی کشتی میں سوار ہے اور وہ چاہتا ہے کہ بھرپور فوائد ہاتھ آنے اور اپنے منصبوں پر برقرار رہنے کے ساتھ اس جنگ کا اختتام ہو جائے"۔

یاد رہے کہ صلاح بادی جو موومنٹ بریگیڈ 36 کی قیادت کر رہا ہے ،،، عالمی سلامتی کونسل ماضی میں اس پر متعدد پابندیاں عائد کر چکی ہے۔ اس کا تعلق لیبیا کے شہر مصراتہ سے ہے۔